عفرین : شامی آبزرویٹری کے انسانی حقوق نے کہا کہ شام کے شمالی علاقے عفرین شہر میں مسلح مظاہرین اور ترک فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں 4 افراد ہلاک 20 سے زائد زخمی ہوگئے ۔ شام کے شمالی علاقے ترکیہ کے کنٹرول میں ہیں ۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جھڑپ اس وقت سامنے آئی جب وسطی ترکیہ میں شامی شخص پر ایک بچے کو ہراساں کرنے کے الزام میں ترک فوج نے پکڑنے بعد شامی کاروباری اداروں اور املاک کے خلاف ہنگامہ آرائی شروع کردی تھی اس کے بعد شامی مسلح افراد نے پورے علاقے مظاہرے کیے ، مظاہرین اور ترک فوج کی فائرنگ کے تبادلے سے 4 افراد مارے گئے اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔
شامی آبزرویٹری کے انسانی حقوق نے مزید کہا کہ 3 افراد عفرین ہلاک ہوئے جبکہ چوتھا شخص جرابلوس میں ہلاک ہوا ، جھڑپ میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
شمالی شہر تعز میں اے ایف پی کےنمائندے نے بتایا کہ درجنوں افراد نے وہاں احتجاج کیا، مظاہرین میں موجود کچھ افراد نے شامی اپوزیشن کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔مسلح بندوق برداروں نے قریبی شہر الباب میں ترک ٹرکوں پر گولیاں چلائیں جس میں مزید افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں ۔
آبزرویٹری کے سربراہ رامی ابیل رحمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ مظاہرے “جلاؤ گھیراؤ کے ساتھ املاک کو جلانا” ترکیہ کے زیر کنٹرول سرحدی پٹی میں پھیل گئے جبکہ باغیوں کے زیر قبضہ ادلب کے قریبی علاقوں تک بھی مظاہرے پھیل گئے۔
یاد رہے کہ ترک فوج نے2016میں شمالی شام کے سرحدی علاقوں سے کرد فورسز کو نکالنے کے لیے پے در پے زمینی کارروائیاں کی تھیں اور اس کے بعد ان سرحدی علاقوں پر قابض ہے ۔
