ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ٹرمپ پر حملہ انتخابی مہم کی کیاری میں کیا گُل کِھلائے گا؟

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد امریکا میں صدارتی انتخابی دوڑ عجیب و غریب دو راہے پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ اس وقت ساری ہمدردیاں ڈونلڈ ٹرمپ کے پلڑے میں ڈلتی جارہی ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہمدردی کی لہر کا سابق امریکی صدر بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔

امریکی اور یورپی میڈیا میں اس قاتلانہ حملے کے حوالے سے تجزیوں اور تبصروں کی باڑھ سی آئی ہوئی ہے۔ بیشتر مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ایک واقعے نے امریکی صدارتی انتخابی مہم کی حرکیات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ امریکا میں سیاسی محاذ آرائی مزید شدت بھی اختیار کرسکتی ہے۔ اور ایسا ہوتا دکھائی بھی دے رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے والا بیس سالہ تھامس میتھیو کروکس اگرچہ ری پبلکن پارٹی کا رجسٹرڈ رکن تھا اور ٹرمپ بھی ری پبلکن پارٹی ہی کے امیدوار ہیں تاہم اِس کے باوجود ناقدین اس حملے لیے صدر بائیڈن کو ذمہ دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں ری پبلکن ورکرز ہی نہیں بلکہ اِس پارٹی کے سیاست دان اور کانگریس میں اِس کے چند ارکان بھی پیش پیش ہیں۔

ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بیشتر سیاست دانوں اور کانگریس کے ارکان کا استدلال ہے کہ یہ حملہ اگرچہ ری پبلکن پارٹی کے رجسٹرڈ رکن نے کیا ہے تاہم اُسے اس حملے کی تحریک صدر بائیڈن کی انتخابی کے دوران اختیار کیے جانے والے بڑھک آمیز لہجے سے ملی۔

ٹرمپ پر حملے کے بعد صدر بائیڈن کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم کو بیک فٹ پر جانا پڑا ہے۔ خود صدر بائیڈن بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور دکھائی دے رہے ہیں۔ محض دو تین پہلے اُن کا لہجہ ٹرمپ کے لیے انتہائی سخت، جارحانہ اور اہانت آمیز تھا۔ اُن کی انتخابی مہم کے بیشتر اشتہارات بھی اِسی نوعیت کے تھے۔

صدر بائیڈن کی انتخابی مہم کے منتظمین صدر بائیڈن کے تمام انتخابی اشتہارات رُکوانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہ اشتہارات شائع یا نشر ہوگئے تو بگاڑ پھیلے گا کیونکہ اِن میں ٹرمپ پر شدید نکتہ چینی کی گئی ہے۔ سبھی کو اندازہ ہے کہ یہ وقت ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کا نہیں۔ اگر یہ اشتہار مکمل طور پر نہ رُکوائے جاسکے تو صدر بائیڈن کی پوزیشن کو دھچکا لگے گا۔

صدر بائیڈن نے حملے کے بعد سے جو کچھ کہا ہے وہ اس بات کا مظہر ہے کہ وہ معاملے کی سنگینی سے اچھی طرح واقف ہیں اور نہیں چاہتے کہ اس مرحلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کوئی بات کی جائے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم چلانے والوں سے بھی مشاورت کی ہے تاکہ معاملات کو خراب ہونے سے بچایا جاسکے۔

ری پبلکن پارٹی کے کارکن اور سیاست دان ٹرمپ پر حملے کے حوالے سے تصویروں کو بڑے پیمانے پر پھیلاکر انتخابی فضا کو اپنے حق میں کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ٹرمپ کے حق میں جائے اِس پر بہت زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ اس وقت امریکا بھر میں ہمدردی کی ایک لہر اُٹھی ہے جس پر سوار ہوکر ٹرمپ بہت دور تک جاسکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ایرک نے اپنے والد کی حملے بعد مُکا لہراتی ہوئی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ امریکا کو اس وقت ایسے ہی فائٹر درکار ہے۔ کوشش کی جارہی ہے کہ ٹرمپ کو قومی ہیرو قرار دے کر قوم کو اُن کی پوجا میں مصروف کردیا جائے۔ یہ وقت صدر بائیڈن کے لیے بہت پریشان کن ہے کیونکہ پوری قوم کی توجہ ٹرمپ نے بٹور لی ہے اور، ظاہر ہے، وہ یہ چاہیں کہ ابھی کچھ وقت تک یہ توجہ منتشر نہ ہو۔

ٹرمپ پر حملے کے حوالے سے ایف بی آئی کی تحقیقات جاری ہے۔ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ سابق امریکی صدر کو گولی مارنا کسی شخص کا انفرادی فعل نہیں تھا بلکہ ایک بڑی اور منظم سازش کے تحت یہ سب کیا گیا تو امریکی سیاست میں محاذ آرائی بڑھ جائے گی، نظریاتی خلیج مزید وسیع اور گہری ہو جائے گی اور اِس کے نتیجے میں ایوانِ صدر تک پہنچنے کی دوڑ کی ڈائنامکس ہی تبدیل ہوجائیں گی۔

ٹرمپ پر گولی چلانے والا بیس سالہ تھامس میتھیو کروکس سیکریٹ سروس ایجنٹس کے ہاتھوں مارا جاچکا ہے تاہم اُس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پوسٹس اور وڈیوز کو کھنگالا جارہا ہے تاکہ اُس کے نظریات کا اندازہ لگانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم کیا جاسکے کہ وہ کن سیاسی لوگوں سے رابطے میں رہا تھا اور کیا اُس نے ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے حوالے سے اپنی کسی سوشل میڈیا پوسٹ یا ویڈیو میں کوئی عندیہ دیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں