ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

حکومت جماعت اسلامی کے دھرنوںسے خوفزدہ‘ 3رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی

اسلام آباد:جماعت اسلامی کے دھرنے میں شرکت کے لیے ہزاروں افراد ایکسپریس وے پر موجود ہیںجبکہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن شرکاء سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت/مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزرا عطا اللہ تارڑنے کہا ہے کہ جماعت اسلامی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں‘ احتجاج اور احتجاج کے بغیر بھی بات چیت ہوسکتی ہے‘ مذاکرت کے لیے حکومت نے تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے ‘حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اپنی عملداری قائم کرنا ہو گی،امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس بعد ازاں ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ جماعت اسلامی سے مذا کرات کے لیے 3رکنی حکومتی کمیٹی بن چکی ہے جس میں امیر مقام ، میں اور ڈاکٹر طارق فضل چودھری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے دو پیشکش کی ہیں، پہلی یہ وہ وہ لیاقت باغ میں بیٹھیں دھرنا دیں اور احتجاج کریں ، احتجاج کے ساتھ اور احتجاج کے بغیر بھی مذاکرات کرنے کو تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد آنے کی کوئی تْک نہیں ہے ہم نے انہیں لیاقت باغ کی جگہ مختص کر کے دی، سمجھ نہیں آتی کہ یہ اسلام آباد کیوں آئے، دھرنے کے لیے جو جگہ مختص کی گئی ہے وہیں دھرنا دیا جائے، ریڈ زون کی جانب
بڑھیں گے تو حالات خراب ہوں گے، جب امن وامان کو ہاتھ میں لیا جائے گا تو معاملات خراب ہوں گے۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی سے کچھ مطالبات پر بات چیت ہو سکتی ہے لیکن کچھ مطالبات کے حوالے سے زیادہ امید نہیں رکھنی چاہیئے، بہت سے معاشی معاملات ہیں ہم بیٹھ کر ان پر بریفنگ دینے کا تیار ہیں، مذاکرات کے ذریعے ان کو قائل کریں گے لیکن یہ کہہ دینا کہ راتوں رات ایسا کر دیں تو یہ ممکن نہیں ہوت،۔ میں کوشش کروں گا کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم اور دیگر زعما سے بات چیت ہو جائے۔اْن کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم کا بڑا احترام ہے چاہتے ہیں ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔ ایسی سیکورٹی کی صورت حال میں دھرنے کا کیا جواز ہے؟ لوگوں کو معاش کے لیے نکلنے میں مشکلات ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو کہہ رہے ہیں کہ ہم نے پہلے ہی بہت سبسڈی دی ہے۔وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کا امریکا سے ڈالر لینے کا الزام خود اپنی سابقہ حکومت پر ہونا چاہیے، وہ خود بتائیں خیبر پختونخوا اور وفاق میں ان کی پارٹی کی حکومت تھی،انہوں نے امریکا سے کتنے ڈالر لیے اور کہاں خرچ کیے۔؟ان کی حکومت میں کئی آپریشنز ہوئے، ڈالر بھی لیے گئے اور ان کا پتا بھی نہیں کہ وہ کہاں گئے۔بنوں واقعے اور آپریشن عزم استحکام کو متنازع بنانا درست نہیں ہے، امن و امان کا معاملہ خیبر پختونخوا کا اپنا پیدا کردہ ہے۔امیر مقام نے کہا کہ وزیر اعظم اور ڈی جی آئی ایس پی آر کہہ چکے ہیں کہ ملک میں ایسا کوئی آپریشن نہیں ہو رہا جس سے خدانخواستہ ملک کو نقصان ہو رہا ہو، یہ آپریشن ملک کو مضبوط کرنے کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مسائل ہیں او ایک پارٹی سیاست کر رہی ہے، قیام امن امن کے لیے حکومت رٹ قائم کرنا ہو گی، پاک فوج کی قربانیوں پر اس کے ساتھ ہمدردی اور یکجتہی کرنی چاہیے نہ کہ اس کے خلاف باتیں کی جانی چاہییں۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں