لندن : برطانیہ میں بھارتی نژاد نریندر کور کو دکانوں سے سامان چرانے، جعلی ریفنڈز کے ذریعے پانچ لاکھ پاؤنڈ بٹورنے اور قانونی کارروائی کی راہ میں دیوار کھڑی کرنے کے جرم میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
نریندر کور نے کم و بیش ایک ہزار دکانوں سے سامان چرایا اور درجنوں کمپنیوں سے جعلی ریفنڈ وصول کیے۔ اُس کے خلاف دھوکا دہی کے 26 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ 54 سالہ نریندر کور عرف نینا تیارا کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس بھی تھا۔
گلوسسٹر شائر کاؤنٹی کورٹ نے اُسے ایک ہزار سے زائد دکانوں سے سامان چرانے کے جرم میں سزا سنائی۔ عدالتی کارروائی کے دوران ثبوت کے طور پر درجنوں سی سی ٹی وی فوٹیجز پیش کی گئیں جن میں نریندر کور سامان چراتی ہوئی دیکھی جاسکتی ہے۔
ویسٹ مرسیا کے اکناک کرائم یونٹ کے فراڈ انویسٹیگیٹر اسٹیو ٹرسٹرم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج کے فیصلے سے سب کو اچھی طرح اندازہ ہو جانا چاہیے کہ چوری جیسی قبیح حرکت کے مرتکب افراد کے لیے کوئی معافی نہیں۔
اسٹیو ٹرسٹرم کا کہنا تھا کہ نریندر کور عادی مجرم تھی۔ اُس نے جو کچھ بھی کیا جان بوجھ کر اور پورے ہوش و حواس کی حالت میں کیا۔ اُسے اپنے کیے پر ذرا بھی شرمندگی نہیں تھی اور وہ سوچ رہی تھی کہ شاید وہ جعلی دستاویزات کے ذریعے آسان سے بچ نکلے گی۔
پولیس نے نیشنل بزنس کرائم سولیوشن کے ساتھ مل کر 2018 میں تحقیقات شروع کی اور شواہد جمع کیے۔ جولائی 2015 سے ستمبر 2019 کے دوران نریندر کور نے ہر ہفتے جعلی ریفنڈز کے ذریعے 2 ہزار پاؤنڈ بٹورے۔
