بدین (نمائندہ جسارت)سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا جی ڈی اے رہنما دلبر خواجہ اور فیصل چیمہ کی گرفتاری پر شدید ردعمل اور مذمت گرفتاری سیاسی انتقام اور اصل منشیات فروشوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جی ڈی اے کی مرکزی رہنما سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے بدین سے جی ڈی اے کے سرگرم رکن دلبر خواجہ اور فیصل چیمہ کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار اور مذمت کرتے ہوئے گرفتاری کو سیاسی انتقام اور اصل منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مہنگائی ، بے روزگاری ، غریب ، منشیات فروشی ، بے امنی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہونے اور اپنی غلطی کوتاہی کرپشن عوام دشمنی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دلبر خواجہ اور فیصل چیمہ کی گرفتاری اور قمر شہداد کورٹ میں منشیات کا مقدمہ درج کرنا ایک اچھوتا ہتھکنڈا ہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا مزید کہنا تھا کہ دلبر خواجہ اور فیصل چیمہ کو ٹندوباگو کے قریب سے اپنی زرعی اراضی سے واپسی پر گرفتار کیا گیا اور ایف آئی آر قمر شہداد کورٹ ضلع کے ایک تھانہ پر درج کر کے گرفتاری ظاہر کرنا قانون کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ٹنڈوباگو پولیس اور ایس ایچ او کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اہل خانہ کی درخواست کے باوجود دلبر خواجہ اور فیصل چیمہ کو اغوا کر کے لاپتا کرنے کی ایف آئی آر درج نہ کرنا بھی قابل مذمت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ بدین سمیت سندھ بھر کے عوام باخبر اور جانتے ہیں کہ منشیات فروشی اور کرائم میں پیپلزپارٹی کے رہنما ملوث ہیں جن کو پولیس کی سہولت کاری اور حکومتی شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے . ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس آف سندھ سے جی ڈی اے ارکین کی گرفتاری پر نوٹس لیتے ہوئے گرفتار رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔