برطانیہ میں پولیس اور تفتیشی اداروں نے مسلمانوں اور مساجد پر حالیہ حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ حملوں کی وڈیوز میں جن لوگوں کو شناخت کرلیا جائے گا اُنہیں کسی بھی حال میں بخشا نہیں جائے گا۔
پندرہ دن قبل انگلینڈ کے قصبے ساؤتھ پورٹ کے ایک اسکول میں چاقو سے حملے میں تین بچیوں کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی غلط بیانی کے باعث مقامی آبادی نے مسلمانوں پر حملے شروع کردیے۔ شرپسندوں نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ حملہ آور شام کا پناہ گزین تھا۔ تحقیقات کی روشنی میں پولیس نے بتایا کہ جس شخص کو حملہ آور بتایا جارہا ہے وہ تو مقامی باشندہ ہے اور انگلینڈ ہی میں پیدا ہوا تھا۔
وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے کہا تھا کہ ملک کی سلامتی اور استحکام کو داؤ پر لگانے والے سفید فام انتہا پسندوں اور نسل پرستوں سے سختی سے نپٹا جائے گا۔
جن 1024 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اُن میں سے575 پر نسل پرستی کے جذبے کے تحت مسلمانوں پر حملوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ حملے 29 جولائی کو اسکول پر حملے کے بعد شروع ہوئے تھے۔
سفید فام انتہا پسندوں اور نسل پرستوں نے انگلینڈ کے علاوہ شمالی آئرلینڈ میں بھی ہنگامہ آرائی کی۔ مساجد اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بعض مقامات پر ہنگامہ آرائی کا رخ تارکینِ وطن کی طرف موڑ دیا گیا۔ انگلینڈ کے ایک ایسے ہوٹل پر بھی حملے کیے گئے جن میں تارکینِ وطن ٹھہرے ہوئے تھے۔
وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے مسلمانوں اور مساجد کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کا حکم دیا اور اعلان کیا کہ شرپسندوں کو کسی بھی حال میں معاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ اُنہوں نے ملک کا استحکام داؤ پر لگانے کی کوشش کی ہے۔
دی نیشنل پولیس چیفسز کونسل کا کہنا ہے کہ جن 1024 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں بیشتر کو جیل بھیجا جاچکا ہے۔ چند ایک کو طویل سزائے قید بھی دی گئی ہے۔ ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے الزام میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں لِور پول کا ایک 69 سالہ باشندہ اور بیلفاسٹ (شمالی آئرلینڈ) کا ایک گیارہ سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔
جس ہوٹل میں تارکینِ وطن ٹھہرے ہوئے تھے اس پر حملہ 31 جولائی کو کیا گیا تھا۔ اس حملے میں ملوث افراد میں ایک 13 سالہ لڑکی بھی شامل ہے۔ بیسنگسٹوک میجسٹریٹ کورٹ میں اس پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ وکیلِ سرکار ٹامس پاور نے اس گھناؤنی حرکت میں اتنی چھوٹی عمر کی لڑکی کی شرکت کو انتہائی شرم ناک قرار دیا۔
