
بدین (نمائندہ جسارت) مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی ممتاز حسین سہتو ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی مہنگی بجلی، ظالمانہ ٹیکسز اور کرپشن کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی، حکومت نے دھرنے کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو دوبارہ تحریک کا آغاز کیا جائے گا، ہم ذاتی نہیں، عوام کا مطالبہ لڑ رہے ہیں، عوام جماعت اسلامی کی حق دو عوام کو تحریک کا ساتھ دے کر ظلم و ناانصافیوں کے خاتمے اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں، مرکزی امیر نے اگر دوبارہ کال دی تو دوبارہ لاکھوں افراد اسلام آباد کا رُخ کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدین کے تنظیمی دورے کے بعد پریس کلب میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ سندھ میں ترقیاتی کاموں کے بجائے کرپشن کا بازار گرم کیا جا رہا ہے، کہیں ترقیاتی کام نظر نہیں آتا جو کام ہورہا تھا وہ بارش کی نظر ہو گیا، یہ سندھ کی ترقی ہورہی ہے۔ حالیہ بارش کے نتیجے میں نقصان اور عوامی مشکلات نے پیپلز پارٹی کے 15 سالہ دورِ حکومت کی کارکردگی کو بے نقاب کر دیا، لاڑ کے ساحلی علاقوں میں تاحال کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو رہا، وہاں کے لوگوں کی مخدوش صورت حال ہے، نہ پانی کی سہولت اور نہ علاج کی سہولت میسر ہے۔ وزیر تعلیم کا اساتذہ سے دوبارہ ٹیسٹ لینے کی تجویز تشویش ناک اور محکمہ تعلیم میں کرپشن مزید بڑھانا ہے، وزیر تعلیم پہلے بچوں کو درسی کتابوں کی فراہمی کریں، 50 فیصد بچوں کو تاحال درسی کتب فراہم نہ گئیں، بچوں کا مستقل دائو پر لگ گیا، بدین میں محکمہ تعلیم کو ایسے افسران کی ضرورت ہے جو تعلیم کے بجائے کرپشن پر توجہ دیں۔ ضلع کے ایماندار آفیسر ڈی ای او سید عمران شاہ کا جبری تبادلہ کرکے حکومت نے کرپشن میں ملوث افسران کا تبادلہ کیا ہے، اب تعلیم کے شعبہ میں ایماندار افسران کے بجائے کرپٹ افسران کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی بدین کے امیر سیدعلی مردان شاہ گیلانی، نائب امیر غلام رسول احمدانی، مقامی امیر فتح خان کھوسہ، ڈاکٹر عمر بھی موجود تھے۔