ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کام کے دوران انزائٹی کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

آفس میں امور انجام دینے والے افراد یا کسی بھی پیشے سے منسلک لوگ کام کی جگہ پر اکثر دباؤ، پریشانی یا اضطرابی کیفیت کا سامنا کرتے ہیں۔

کام کا پریشر انسان کو تھکانے کے ساتھ ساتھ پریشانی اور دباؤ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ لیکن اس کیفیت میں ایک بہت ہی آسان طریقہ آپ کو سکون پہنچا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گہری سانس کی مشق دباؤ اور انزائٹی کم کرنے میں بے حد مددگار ثابت ہوتی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق مایوسن مارکیٹنگ نامی کمپنی کے تمام ملازمین زوم پر میٹنگ شروع ہونے سے قبل گہری سانس کی مشق کرتے ہیں۔


کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) سین کلیٹن کا کہنا ہے کہ اس مشق کے بعد تمام ملازمین پُرسکون اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق انزائٹی اور تناؤ امراضِ قلب اور فالج جیسی بیماری کا خطرہ بڑھاتا ہے اور یہ انسانی صحت کے لیے اتنا ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے جتنا دھوئیں میں سانس لینا۔

تحقیق کے مطابق گہری سانس کی مشق بلڈ پریشر کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ انزائٹی بھی کم کرتی ہے۔


متوازن غذا، تروتازہ رہنے کے لیے پانی کی معقول مقدار، الکوحل اور کیفین جیسی چیزوں سے اجتناب یا اسے محدود کرنا اضطراب سے چھٹکارا پانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

متوازن غذا، تروتازہ رہنے کے لیے پانی کی معقول مقدار، الکوحل اور کیفین جیسی چیزوں سے اجتناب یا اسے محدود کرنا اضطراب سے چھٹکارا پانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ گہری سانس لینا کوئی مشکل یا ایسا کام نہیں ہے جس کے لیے آپ کو بہت زیادہ وقت نکالنا پڑے۔ آپ اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے بھی صرف ایک سے دو منٹ گہری سانس لے کر ذہن میں آنے والی بے شمار سوچوں کو روک سکتے ہیں۔

ہیوسٹن کے بیلر کالج آف میڈیسن کے پروفیسر اور کارڈیولوجسٹ گلین لیوائن کا کہنا ہے کہ ایک سے پانچ منٹ تک گہری سانس لینے پر توجہ رکھنے سے دماغ میں موجود تمام سوچیں نکل سکتی ہیں اور منفی خیالات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گہری سانس لینے کے بعد آپ دوبارہ سے اس چیز یا کام پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں جس کے بارے میں آپ سوچ رہے ہوتے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں