سیئول: جنوبی کوریا کے جنوبی علاقوں میں شدید جنگلاتی آگ نے تباہی مچادی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد جاں بحق ہوگئے، 27 ہزار کے قریب افراد بے گھر اور 200 سے زائد عمارتیں خاکستر ہوگئیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ گزشتہ دو دن قبل لگی تھی ، اس وقت سے بھڑک رہی ہے اور اب تک 43,330 ایکڑ (17,535 ہیکٹر) زمین راکھ ہو چکی ہے، ہیلی کاپٹر کا ایک پائلٹ اس وقت ہلاک ہوا جب اس کا طیارہ آگ بجھانے کی کوشش کے دوران گر کر تباہ ہوگیا۔
آگ نے قدیم بدھ مت کے مندر گونسہ (Gounsa) کو بھی شدید نقصان پہنچایا، جہاں کئی تاریخی عمارتیں تباہ ہوگئیں، تاہم ایک آٹھویں صدی کا پتھر کا بُدھا محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
500 قیدیوں کو ایک حراستی مرکز سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تاہم جیل کو نقصان نہیں پہنچا،
سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں اندونگ، اوئسونگ، سانچیونگ اور اولسان شامل ہیں۔ تیز خشک ہواؤں کے باعث آگ پر قابو پانا مشکل ہو گیا ہے۔
حکومت نے ملک بھر میں جنگلاتی آگ کا انتباہ “انتہائی خطرناک” سطح پر پہنچا دیا ہے، فوجی مشقوں کو معطل کرنے اور اضافی عملہ تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے، جاں بحق ہونے والوں میں چار فائر فائٹرز اور سرکاری اہلکار شامل ہیں جو سانچیونگ میں تیز ہواؤں کے سبب پھیلتی آگ میں پھنس گئے تھے۔
ذرائع کےمطابق 20 سے زائد افراد جھلس کر زخمی ہو چکے ہیں،جنوبی کوریا کی حکومت نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے مقامی حکام کو فوری ردعمل دینے، جنگلات میں داخلے پر پابندی لگانے اور مزید ریسکیو ٹیمیں تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے، یہ جنوبی کوریا کی تاریخ کی تیسری سب سے بڑی جنگلاتی آگ ہے۔