ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ملتان: جلالپور پیروالا میں بند ٹوٹنے سے تباہ کن سیلاب، درجنوں بستیاں ڈوب گئیں، ایمرجنسی نافذ

ملتان: پنجاب کے جنوبی ضلع کے علاقے جلالپور پیروالا میں سیلابی صورتحال کے نتیجے میں مقامی بندوں میں شگاف پڑ گئے۔

دریائے چناب میں مسلسل بڑھتے پانی کے بہاؤ نے پہلے ہی خطرے کی گھنٹی بجا رکھی تھی، مگر بند ٹوٹنے کے بعد یہ تباہی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اس دوران درجنوں دیہات اور بستیاں دیکھتے ہی دیکھتے پانی میں ڈوب گئیں اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے گھروں کی چھتوں اور اونچی جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

انتظامیہ نے فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے شہریوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریسکیو کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں اس وقت 5 ڈرون اور 50 کشتیاں امدادی سرگرمیوں کے لیے بھیج دی گئی ہیں تاکہ پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالا جا سکے۔

موضع شاہ رسول اور بیٹ واہی کے زمیندار بند ٹوٹنے کے بعد پانی بہادر پور تک پہنچ گیا، جس سے ہزاروں افراد براہ راست متاثر ہوئے۔

ہیڈ پنجند اور ہیڈ ترموں پر پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے۔ ہیڈ پنجند پر 6 لاکھ 9 ہزار 669 کیوسک جبکہ ہیڈ ترموں پر 5 لاکھ 43 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر پانی کی سطح مزید بڑھی تو قریبی آبادیوں اور زرعی زمینوں کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس وقت انتظامیہ کی سب سے بڑی ترجیح مقامی شہری بندوں کو بچانے کی ہے، لیکن مسلسل بڑھتا دباؤ ان کوششوں کو مشکل بنا رہا ہے۔

جھنگ میں بھی دریائے چناب کے دوسرے ریلے نے 300 سے زائد دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کھڑی فصلیں جنہیں کسانوں نے خون پسینے کی محنت سے تیار کیا تھا، پانی میں ڈوب کر تباہ ہو گئی ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق 2 لاکھ 81 ہزار ایکڑ اراضی پر تیار کھڑی فصلیں مکمل طور پر ضائع ہو چکی ہیں۔

اس تباہی نے نہ صرف زمینداروں کو کنگال کر دیا بلکہ خوراک کی قلت کے خدشات کو بھی جنم دے دیا ہے۔

مظفر گڑھ کے علاقے عظمت پور میں بھی بند ٹوٹنے کے بعد کئی بستیاں پانی میں گھر گئیں، جہاں 7 ہزار سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ متاثرین نے فوری طور پر قریبی محفوظ مقامات کا رخ کیا ہے۔ دوسری طرف دریائے ستلج میں بھی اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے، جس کے پانی نے بہاولپور کے ناردرن بائی پاس تک پہنچ کر متعدد بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں