سینیٹر فیصل واوڈا نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ بڑے کریک ڈاؤن کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور ایسے افراد کو نشانہ بنایا جائے گا جن کے لگژری لائف اسٹائل اور انکم ٹیکس گوشواروں میں واضح فرق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ سال کے گوشواروں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کم از کم 15 فیصد اضافہ دکھایا گیا تو پرانے گوشواروں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر پچھلے سالوں کا تمام ریکارڈ کھولا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “30 فیصد پر بھی جان نہیں چھوٹے گی”، جس کا مطلب ہے کہ سخت کریک ڈاؤن کے دوران معمولی اضافہ دکھانے سے بھی چھٹکارا ممکن نہیں ہوگا۔ فیصل واوڈا کے مطابق ایف بی آر نے ایسی لسٹیں تیار کر لی ہیں جن میں ٹیکس دہندگان کے لائف اسٹائل اور ان کے گوشواروں کا موازنہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کمپنیوں کی نشاندہی کرنے والوں کو بڑے انعامات دیے جائیں گے اور وسل بلورز کی شناخت کو مکمل طور پر صیغۂ راز میں رکھا جائے گا۔ ایف بی آر کو اپنے قوانین کے تحت سخت کارروائی کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔
سینیٹر نے عوام کو خبردار کیا کہ اب وقت ہے کہ ٹیکس دینے کی تیاری کر لیں، ورنہ بعد میں یہ نہ کہا جائے کہ اطلاع نہیں دی گئی تھی۔