اسلام آباد:۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بارباڈوس میں منعقدہ 68 ویں کامن ویلتھ پارلیمنٹری کانفرنس کے ایک اہم سیشن کی صدارت کرتے ہوئے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا کہ انہوں نے بھارتی پارلیمانی وفد سے مصافحہ کرنے سے گریز کیا۔
اپنے بیان میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ “میں نے بھارتی وفد سے مصافحہ کیا تھا اور ابھی بھی مصافحہ کرنے کے لیے تیار ہوں، حتیٰ کہ ابھی اسی لمحے”۔ گیلانی کے اس دوٹوک اور مثبت جواب پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور حاضرین نے ان کے کشادہ دلی اور بہترین سفارتی انداز کی بھرپور تحسین کی۔
بہتر طرزِ حکمرانی، کثیرالجہتی اور بین الاقوامی تعلقات میں دولت مشترکہ کے کردار کے عنوان سے ایک خصوصی سیشن تھا، جس کی صدارت چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کی۔ چیئرمین سینیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی جڑی ہوئی دنیا میں ہمارا اجتماعی عزم ہی یہ طے کرتا ہے کہ ہم جمہوری زوال، ماحولیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا اثر یا جمہوری اداروں کے تحفظ جیسے چیلنجز کا سامناکس طرح کرتے ہیں۔
اجلاس میں شریک ایک رکن کے اقلیتوں سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لئے اقدامات اٹھائے گئے۔ چیئرمین سینیٹ نے اپنے وزارت عظمیٰ کے دور کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ انہوں نے اقلیتوں کے لئے علیحدہ وزارت قائم کی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے اقدامات اٹھائے۔