اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ان کی رہائش گاہ بنی گالہ منتقل کرنے کی آفر کردی۔
ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا کہ عمران خان کو بنی گالا منتقل کیا جا سکتا ہے جہاں پی ٹی آئی رہنما اور ان کے اہلِ خانہ روزانہ ان سے ملاقات کرسکیں گے لیکن اگر پاکستان تحریکِ انصاف اس حوالے سے کوئی تحریری درخواست دے تو عمران خان کو ان کی بنی گالہ رہائش گاہ منتقل کرسکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل میں 8 ہزار قیدی ہیں جو عمران خان اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، عمران خان کو رہا تو نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کی بنی گالہ رہائشگاہ کو سب جیل قرار دے کر انہیں وہاں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کو چاہیئے کہ وہ اڈیالہ سے بنی گالہ منتقلی کی تحریری درخواست دے تو ہم یہ منتقلی کر دیں گے پھر وہ روز صبح شام انہیں ملیں، باتیں کریں یا لڈو کھیلیں، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس سے پہلے جنوری 2024ءمیں سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا کے بعد خود کو احتساب عدالت کے حوالے کیا تو حکومت نے انہیں ان کے شوہر کی بنی گالہ رہائش گاہ منتقل کر دیا تھا۔
اس مقصد کے لیے رہائشگاہ کو سب جیل قرار دیا گیا، تاہم بعد ازاں بشریٰ بی بی نے الزام عائد کیا کہ انہیں وہاں زہر دیا جا رہا ہے، اس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور عدالتی حکم پر انہیں مئی 2024ءمیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔