اسلام آباد: پاکستان میں نان فائلرز کے لیے اے ٹی ایم سے نقد رقم نکلوانے پر نیا ٹیکس نافذ کر دیا گیا ہے، نئے قواعد کے مطابق وہ افراد جو فائلر نہیں ہیں اور ان کا نام ایکٹیو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) میں شامل نہیں، اگر ایک دن میں اپنے بینک اکاؤنٹ سے اے ٹی ایم کے ذریعے 50,000 روپے سے زائد نقد رقم نکلوائیں گے تو ان پر 0.8 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔
مثال کے طور پر، اگر کوئی نان فائلر ایک دن میں 60,000 روپے اے ٹی ایم سے نکلواتا ہے تو اس کے اکاؤنٹ سے 480 روپے کی کٹوتی ٹیکس کے طور پر کی جائے گی۔ یہ ٹیکس صرف نقد رقم نکلوانے پر لاگو ہوگا اور بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانے، آن لائن ٹرانسفر یا چیک کی صورت میں نہیں لگے گا۔
فائلرز جن کا نام ATL میں شامل ہے، اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں اور ان کے لیے اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے پر کوئی اضافی ٹیکس نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے پر بینک کی فیس اس ٹیکس میں شامل نہیں ہے اور بینک اپنے الگ چارجز وصول کرے گا۔
یہ اقدام غیر فائلرز کے مالیاتی لین دین کی نگرانی اور ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ فائلرز کو اس سلسلے میں رعایت دی گئی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ نان فائلرز پر یہ نیا ٹیکس شہریوں کے لیے اضافی بوجھ پیدا کرے گا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو زیادہ تر نقد لین دین پر انحصار کرتے ہیں۔ کچھ شہریوں نے اسے غیر ضروری پابندی قرار دیا جبکہ دیگر نے کہا کہ اس اقدام سے مالی شفافیت میں بہتری آئے گی لیکن اس کے ساتھ عوام کی سہولت کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔
یہ اقدام غیر فائلرز کے مالیاتی لین دین کی نگرانی اور ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ فائلرز کو اس سلسلے میں رعایت دی گئی ہے۔