واشنگٹن : سائنس دانوں نے ایک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ وزن میں اضافے یا مٹاپے کا تعلق صرف طرزِ زندگی سے نہیں بلکہ جینیاتی عوامل سے بھی گہرا ہے۔
محققین نے درجن بھر ایسے جینز کی نشان دہی کی ہے جو انسان میں مٹاپے کے خطرات بڑھاتے ہیں، جن میں سے پانچ جینز پہلی بار دریافت کیے گئے ہیں۔
جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں دنیا کے چھ برِاعظموں سے تعلق رکھنے والے 8 لاکھ 50 ہزار افراد نے حصہ لیا۔ نتائج کے مطابق 13 جینز ایسے پائے گئے جن کا براہِ راست تعلق مٹاپے سے ہے۔
ان میں سے آٹھ جینز ماضی میں مختلف مطالعات میں دریافت کیے جا چکے تھے، جب کہ باقی پانچ بالکل نئی دریافت ہیں جن میں YLPM1، RIF1، GIGYF1، SLC5A3 اور GRM7 شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق مٹاپہ صرف جسمانی خدوخال نہیں بدلتا بلکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس، امراضِ قلب اور آسٹو آرتھرائٹس جیسی پیچیدہ بیماریوں کے خطرات میں بھی نمایاں اضافہ کرتا ہے۔
تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ نتائج جینیاتی بنیادوں پر ایسی مؤثر ادویات کی تیاری میں مدد فراہم کر سکتے ہیں جو مختلف آبادیوں میں مٹاپے کے خلاف زیادہ بہتر نتائج دے سکیں، کیونکہ اب تک زیادہ تر مطالعات مخصوص علاقوں یا قومیتوں تک محدود رہے ہیں۔