پشاور:خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کی اسپیشل برانچ کو باضابطہ طور پر ایک اسپیشلائزڈ یونٹ اور علیحدہ کیڈر کی حیثیت دینے کی منظوری دے دی ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں اس حوالے سے بڑے انتظامی اور مالی فیصلے کیے گئے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق اجلاس میں اسپیشل برانچ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 1221 نئی اسامیوں کی تخلیق کی اصولی منظوری دی گئی جبکہ محکمے کے انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور جدید ضروریات کے مطابق اپگریڈیشن کے لیے 1820 ملین روپے مختص کیے گئے، اس کے علاوہ موٹر وہیکل فلیٹ کی بہتری کے لیے 904.7 ملین روپے بھی منظور کیے گئے۔
حکومت نے اسپیشل برانچ کو درکار 98 گاڑیاں اور 404 موٹر سائیکلیں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جدید ٹیکنیکل آلات، فیلڈ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سیکیورٹی سسٹمز کی خریداری کے لیے 2543.9 ملین روپے مختص کیے گئے تاکہ محکمے کی تکنیکی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اسپیشل برانچ پولیس کا بنیادی ستون ہے، اس لیے محکمہ کو تمام ہیومن ریسورس، آلات اور ٹیکنالوجی فوری بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی، بہتر وسائل کے بغیر موثر انٹیلیجنس سسٹم ممکن نہیں، اسی وجہ سے اسپیشل برانچ کو جدید خطوط پر استوار کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
اجلاس میں اسپیشل برانچ کے مجوزہ الاؤنسز کو بھی ترجیحی بنیادوں پر منظوری کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی، ساتھ ہی اسپیشل برانچ کے لیے نئی عمارتوں کے قیام کی منظوری بھی دی گئی، جس سے ادارے کو مستقل اور منظم آپریشنل ڈھانچہ مل سکے گا۔