تل ابیب:اسرائیلی فوج کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کئی سالوں تک اسرائیلی فوجیوں کی سوشل میڈیا پوسٹس، تصاویر اور ویڈیوز کا باریک بینی سے مطالعہ کر کے حساس فوجی معلومات جمع کیں، جمع کی گئی معلومات میں فوجی اڈوں، گاڑیوں اور خاص طور پر جدید مرکاوا مارک 4 ٹینک کے آپریشنز سے متعلق ڈیٹا شامل تھا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے ایک خصوصی انٹیلی جنس یونٹ نے ہزاروں سوشل میڈیا پوسٹس کا تجزیہ کر کے ایک جامع ڈیٹا بیس تیار کیا، جس میں ٹینکوں کے خفیہ فیچرز بھی شامل تھے، جیسے کہ مرکاوا مارک 4 ٹینک کا خفیہ کِل سوئچ جس کے ذریعے ٹینک کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے، اسی معلومات کی بنیاد پر 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں حماس نے متعدد ٹینک ناکارہ بنائے اور کئی فوجی اڈوں پر کامیاب کارروائیاں کیں۔
اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک وسیع زیر زمین ٹنل کمپلیکس دریافت کیا جسے پینٹاگون کا نام دیا گیا، یہ کمپلیکس وسطی غزہ کے مہاجر کیمپوں کے نیچے قائم تھا اور اس میں فوجی اڈوں، گاڑیوں اور یونٹس کے بارے میں جمع بے تحاشا ڈیٹا موجود تھا، کمپلیکس میں نقشے، دستاویزات، انٹیلی جنس رپورٹس، ورچوئل ریئلیٹی سمولیٹرز اور فوجی سازو سامان کے ماڈلز رکھے گئے تھے جو گزشتہ پانچ سال میں حاصل کی گئی سوشل میڈیا معلومات کی بنیاد پر تیار کیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق حماس کے اس انٹیلی جنس یونٹ میں تقریباً 2,500 اہلکار شامل تھے، جنہوں نے تقریباً ایک لاکھ اسرائیلی فوجیوں کو مانیٹر کرنے کے لیے دسیوں ہزار جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے، ان اکاؤنٹس کے ذریعے فوجیوں کی نقل و حرکت، آئرن ڈوم بیٹریوں کی پوزیشن، کمپنیوں کی تعیناتی اور آپریشنل روٹین کا تفصیلی ریکارڈ مرتب کیا گیا، بعض یونٹس کے داخلی واٹس ایپ گروپس تک رسائی بھی حاصل کی گئی، جس سے فوجیوں کی بھرتی اور پروموشن تک کی معلومات حاصل کی گئی۔
حماس نے جمع کی گئی معلومات کو نہ صرف دستاویزات کی شکل میں مرتب کیا بلکہ اڈوں اور سازو سامان کے تھری ڈی اور ورچوئل ریئلیٹی ماڈلز بھی تیار کیے، جن پر ایلیٹ نخبہ یونٹ نے تربیت حاصل کی۔ اس یونٹ کا مقصد ٹینکوں کو قبضے میں لے کر غزہ میں استعمال کرنا تھا، تاہم حملے کے دوران وہ صرف ٹینک ناکارہ کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
اسرائیلی فوجی افسران کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے تربیتی ماڈلز سے آگاہ تھے، لیکن ’’اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنے درست ہوں گے‘‘۔ مارچ میں ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ میں بھی بتایا گیا کہ حماس کو نہال عوز بیس کی مکمل ساخت، فوجیوں کی تعداد، نقل و حرکت اور یہاں تک کہ کمانڈرز کے سونے کے کمروں تک کی معلومات موجود تھیں۔
واضح رہےکہ 7 اکتوبر کو تقریباً 215 فلسطینی مزاحمت کاروں نے اس بیس پر حملہ کیا، اسے چند گھنٹوں میں فتح کیا، 53 فوجیوں کو ہلاک اور 10 کو یرغمال بنا لیا، یہ واقعہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں حماس کی سب سے بڑی اور منظم کارروائیوں میں سے ایک تھا، جس کی منصوبہ بندی کئی سالہ انٹیلی جنس جمع آوری اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ کی بنیاد پر کی گئی تھی۔