آسٹریلیا نے افغانستان کی طالبان حکومت کے چار اعلیٰ عہدیداروں پر مالی اور سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
پابندیوں کا سامنا کرنے والوں میں وزیر برائے نیکی و بدی محمد خالد حنفی، وزیر اعلیٰ تعلیم محمد ندیم، وزیر انصاف عبدالحکیم شرعی اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی شامل ہیں۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ یہ عہدیدار خواتین اور بچیوں کے خلاف سخت پابندیوں، مظالم اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے میں ملوث ہیں۔ ان کے مطابق ان افراد نے لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم، روزگار، آزادانہ آمد و رفت اور عوامی زندگی میں شرکت کے حقوق کو محدود کیا ہے۔
پینی وونگ نے مزید کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد طالبان پر براہِ راست دباؤ میں اضافہ کرنا اور افغان عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط مؤقف اختیار کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا نے افغانستان کے لیے پہلا خودمختار پابندیوں کا فریم ورک تیار کیا ہے، جس کے تحت طالبان کے خلاف براہِ راست اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ابھی تک افغان طالبان حکومت نے آسٹریلیا کے اس اقدام پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔