اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بلوچستان میں آرمی پبلک اسکول کے بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اور حساس فیصلہ کرتے ہوئے بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے اضافی فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے تحت فوج کو 2.1 ارب روپے کی اضافی رقم دی جائے گی، جس سے مجموعی طور پر 38 بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جائیں گی۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماضی میں بلوچستان میں آرمی پبلک اسکول کو دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے اور تعلیمی اداروں کی سیکورٹی ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے۔
یہ فیصلہ وزیر خزانہ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ای سی سی نے دفاعی ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی درخواست کی گئی تھی۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آپریشنل اور سیکورٹی سے متعلق ضروریات کے پیش نظر یہ فنڈز ناگزیر ہیں، تاکہ آرمی پبلک اسکول کے طلبہ کو محفوظ سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں اور بالخصوص بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں جہاں سیکورٹی خدشات موجود رہے ہیں، وہاں اس نوعیت کے اقدامات کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے تلخ واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان انڈر 19 مینز کرکٹ ٹیم کو انعامی رقم دینے کے لیے بھی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی۔