ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سستا تیل مہنگا پڑ گیا: مودی کی خارجہ پالیسی بری طرح ناکام،  بھارتی معیشت دباؤ میں

روس سے سستا تیل حاصل کرنے کی بھارتی پالیسی اب بھارت کے لیے ایک بڑے معاشی اور سفارتی بحران کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جانے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔

عالمی اور بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مودی حکومت کی روس کے ساتھ بڑھتی قربت اب ایک سفارتی ناکامی میں تبدیل ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا جب کہ روسی تیل کی خریداری پر اضافی 25 فیصد جرمانہ بھی لگایا گیا، جس کے باعث بعض بھارتی مصنوعات پر مجموعی ڈیوٹیاں 50 فیصد تک جا پہنچیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر 2025 میں بھی امریکی صدر نے بھارتی چاول پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی، جس سے بھارتی برآمدات کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں تعطل، عالمی پابندیوں کا خدشہ اور بڑھتے ہوئے ٹیرف نے مودی سرکار کے معاشی ماڈل کی کمزوریاں بے نقاب کر دی ہیں۔ سستے روسی تیل کے لالچ نے وقتی فائدہ تو دیا، مگر اس کے نتیجے میں بھارت خود کو عالمی تجارتی دباؤ اور ممکنہ پابندیوں کے دہانے پر لے آیا ہے، جو طویل المدتی طور پر معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین اس صورتحال کو مودی حکومت کی نظریاتی ترجیحات سے بھی جوڑ رہے ہیں، جہاں ان کا کہنا ہے کہ انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے زیراثر مودی کی توجہ بھارت کو ایک مضبوط معاشی طاقت بنانے کے بجائے ہندوتوا ریاست کے تصور پر مرکوز رہی ہے۔ اس پالیسی کے اثرات اب معاشی سطح پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں شائننگ انڈیا کے نعرے کے پیچھے بڑھتی ہوئی سماجی اور معاشی خلیج بے رحمی سے عیاں ہو رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایک طرف امبانی اور اڈانی جیسے بڑے سرمایہ داروں کے اثاثوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب کہ دوسری جانب عام بھارتی شہری مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی ضروریات کی قلت کا شکار ہو چکا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں