تہران: ایران میں حالیہ واقعات کے بعد پیر کے روز ملک بھر میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ تہران سمیت مختلف صوبوں میں عوام کے مختلف طبقات نے مبینہ غیر ملکی حمایت یافتہ ہنگاموں اور دہشت گردی کے خلاف ملک گیر ریلیوں میں شرکت کی اور اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے نظام اور قیادت سے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کو تہران سمیت بیشتر صوبوں میں دوپہرکے اوقات میں ریلیوں کا آغاز ہوا، جب کہ بعض صوبوں میں مظاہرے صبح 9 اور 11 بجے ہی شروع ہو گئے تھے۔ سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی تصاویرمیں مظاہرین کو تہران کے انقلاب اسکوائر کی جانب مارچ کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔
سرکاری حکام نے ان ملک گیر مظاہروں کو دشمن کی جانب سے انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کی سازشوں کے مقابلے میں قومی اتحاد اور یک جہتی کا ناقابلِ تردید ثبوت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرائے کے عناصر اور دہشت گردوں کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوششوں کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق، گزشتہ ماہ بعض شہروں میں دکانداروں نے معاشی مشکلات کے خلاف پُرامن احتجاج کیا تھا، لیکن امریکی اور صیہونی حکام کے بیانات اور اسرائیل سے منسلک فارسی زبان کے میڈیا کی حوصلہ افزائی نے ان مظاہروں کو تشدد اور توڑ پھوڑ کی جانب دھکیل دیا۔
ایرانی حکام نے عوام کے معاشی مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان مسائل کو حل کیا جائے گا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ عوامی مشکلات کو غیر ملکی عناصر نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
حکام کے مطابق یہ معاشی دباؤ براہِ راست امریکا کی یک طرفہ پابندیوں، خاص طور پر مرکزی بینک اور تیل کی برآمدات کو نشانہ بنانے کا نتیجہ ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ بدامنی کے ذمہ دار عناصر کو امریکا اور اسرائیلی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حال ہی میں ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کی حمایت کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ ’’پُرامن مظاہرین‘‘ کو نقصان پہنچا تو امریکا ایران پر حملہ کر سکتا ہے، تاہم سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے موساد کی مبینہ مداخلت اور علیحدگی پسند منصوبوں کی جانب اشارہ کیا تھا۔