ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

گل پلازہ: ناقابل شناخت لاشوں اور اعضا ملنے کا سلسلہ جاری، کلیئر کرنے میں 17 دن تک لگ سکتے ہیں

کراچی: گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک سانحے کے بعد امدادی کارروائیاں بدستور جاری ہیں اور عمارت سے لاشیں ملنے کا سلسلہ تاحال رک نہیں سکا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب تک 21 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ واقعے کے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود صورتحال بدستور سنگین ہے، جب کہ عمارت کے اندر پھنسے ممکنہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں انتہائی مشکل حالات میں اپنا کام انجام دے رہی ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق تقریباً 40 گھنٹے بعد ریسکیو اہلکار گل پلازہ کی عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، جس کے بعد اندر موجود افراد کی تلاش کا باقاعدہ آپریشن شروع کیا گیا۔ عمارت کے اندر شدید اندھیرا، دھواں اور خطرناک حالات کے باعث ریسکیو اہلکار ٹارچوں کی مدد سے مختلف حصوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر قدم انتہائی احتیاط کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے کیونکہ عمارت کا بڑا حصہ غیر محفوظ ہوچکا ہے۔

ریسکیو عملے نے بتایا کہ عمارت کے اندر سے لاشوں کے ساتھ ساتھ انسانی اعضا بھی نکالے جا رہے ہیں، جس سے سانحے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ملبے کے نیچے دبے افراد تک پہنچنا نہایت دشوار ثابت ہو رہا ہے، تاہم ٹیمیں مسلسل کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی بھی ممکنہ زندہ شخص کو بروقت نکالا جا سکے۔ لاشوں کی برآمدگی کا عمل جاری ہے اور ہر گھنٹے کے ساتھ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان نے بتایا کہ اب تک ایک لاش مکمل حالت میں نکالی گئی ہے جب کہ باقی لاشیں صرف انسانی اعضا کی صورت میں ملی ہیں۔ ترجمان کے مطابق تمام لاشیں ناقابل شناخت ہیں جس کی وجہ سے شناخت کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ایدھی کے رضاکار دیگر اداروں کے ساتھ مل کر لاشوں کو نکالنے اور انہیں منتقل کرنے میں مصروف ہیں، جب کہ متاثرہ خاندانوں کی بے چینی اور کرب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

چیف فائر آفیسر نے صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گل پلازہ کا موجودہ ڈھانچہ انتہائی خطرناک ہو چکا ہے اور کسی بھی وقت مزید نقصان کا خدشہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملبہ مکمل طور پر کلیئر کرنے میں 15 سے 17 دن لگ سکتے ہیں، کیونکہ ہر مرحلہ جانچ پڑتال اور حفاظتی اقدامات کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، اسی لیے کارروائی میں جلد بازی سے گریز کیا جا رہا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق کولنگ اور سرچ آپریشن ساتھ ساتھ جاری ہیں تاکہ آگ کے ممکنہ دوبارہ بھڑکنے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ متاثرہ علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جب تک عمارت کے تمام حصوں کی مکمل تلاشی نہیں لے لی جاتی، ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔ دوسری جانب متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی ایک خبر کے انتظار میں ہیں اور ہر نئی لاش ملنے پر ان کا دکھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں