حکومت نے پیٹرولیم سیکٹر میں شفافیت بڑھانے، اسمگلنگ کے خاتمے اور صارفین کے تحفظ کے لیے ایک جامع اصلاحاتی پیکج پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے، جس کے تحت پیٹرول پمپس اور فیول سپلائی چین میں جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام متعارف کرا دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد غیر قانونی پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ جیسے مسائل کا مستقل حل نکالنا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق قانونی اور مستند پیٹرول پمپس کی شناخت کے لیے ’راہگزر‘ کے نام سے ایک موبائل ایپ لانچ کر دی گئی ہے، جس کے ذریعے صارفین ملک بھر میں منظور شدہ فیول اسٹیشنز کی معلومات حاصل کر سکیں گے۔ اس اقدام سے عوام کو معیاری اور درست مقدار میں ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ آئل ٹینکرز کی مؤثر نگرانی کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اشتراک سے جدید ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کر لیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت فیول ٹینکرز، اسٹوریج ٹرمینلز اور ریٹیل آؤٹ لیٹس کو ایک مربوط ڈیجیٹل نیٹ ورک سے منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ فیول کی نقل و حرکت کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن ہو سکے۔
حکومت نے پیٹرول پمپس پر خودکار ٹینک گیجز اور ڈیجیٹل نوزلز نصب کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس سے نہ صرف مقدار میں کمی بیشی کا مسئلہ ختم ہوگا بلکہ شفافیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ اعلامیے کے مطابق 2025 میں 18 سال بعد آف شور تیل و گیس بلاکس کی بولی کا عمل مکمل کیا گیا، جس میں 23 بلاکس کے لیے بولیاں موصول ہوئیں۔
ڈی جی پی سی کی جانب سے تیل و گیس بلاکس کی شفاف نیلامی کے لیے نیا آن لائن پورٹل متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے ایکسپلوریشن اور پروڈکشن بلاکس کی بولی کا پورا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ دھماکا خیز مواد کی نگرانی کے لیے ایکسپلوسیوز ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بھی فعال کر دیا گیا ہے، جس کے دو مراحل کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔
غیر قانونی پیٹرولیم مصنوعات کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پٹرولیم ایکٹ 1934 میں اہم ترامیم کی گئی ہیں، جن کے تحت غیر قانونی ترسیل اور فروخت پر بھاری جرمانے اور ضبطی کی شقیں شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ گیس سیکٹر میں طلب و رسد، قیمتوں اور سرکلر ڈیٹ سے متعلق شفاف رپورٹنگ کا نیا نظام بھی نافذ کیا گیا ہے۔