امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جوہری ڈیل کے لیے چار سخت شرائط عائد کرنا چاہتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان شرائط میں ایران سے افزودہ یورینیئم کی مکمل منتقلی، مقامی سطح پر یورینیئم کی افزودگی روکنا، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی حد بندی اور خطے میں سرگرم پراکسی گروپس سے تعاون ختم کرنا شامل ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نیول بلاکیڈ کے آپشن پر بھی غور کر رہی ہے، جس کا مقصد ایران کی تیل برآمدات کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ حکمتِ عملی ایران کی معیشت کو شدید دباؤ میں لانے کے لیے اختیار کی جا سکتی ہے تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کو مکمل جنگ تصور کیا جائے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کی بنیاد پر کوئی بھی معاہدہ قابلِ قبول نہیں ہوگا، جبکہ خطے میں کشیدگی میں اضافے کی تمام تر ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوگی۔ صورتحال کے پیشِ نظر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ کسی بھی اشتعال انگیزی سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔