آسٹریلوی ٹیسٹ اور ون ڈے کپتان پیٹ کمنز نے انکشاف کیا ہے کہ آنے والے 18 ماہ کے انتہائی مصروف شیڈول میں زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ میچز کھیلنے کی خواہش ہی ان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے باہر ہونے کی بڑی وجہ بنی۔
کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق کمنز نے کہا کہ وہ خود کو بہتر محسوس کر رہے ہیں، مگر ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنا بدقسمتی ہے۔
پیٹ کمنز کا کہنا تھا کہ ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے بعد 4 سے 8 ہفتوں کی بحالی متوقع تھی، تاہم تازہ اسکین کے بعد ڈاکٹروں نے مزید آرام کا مشورہ دیا۔ کمر کی انجری کے باعث وہ طویل المدتی فٹنس کو ترجیح دینا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں مسائل سے بچا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اگست سے شروع ہونے والا آسٹریلیا کا شیڈول غیر معمولی طور پر سخت ہے، جس میں بنگلا دیش کے خلاف ہوم ٹیسٹ، جنوبی افریقا کا دورہ، نیوزی لینڈ سیریز، بھارت کا پانچ ٹیسٹ کا دورہ، ایشز، ون ڈے ورلڈکپ اور ممکنہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل شامل ہیں۔
پیٹ کمنز نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ آنے والے 18 ماہ انجری کے پیچھے بھاگتے گزریں، اس لیے بروقت احتیاط ضروری ہے۔ واضح رہے کہ وہ پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی شامل نہیں تھے اور سری لنکا و بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے اسکواڈ سے باہر کر دیے گئے ہیں، جہاں ان کی جگہ فاسٹ بولر بین ڈوارشوس کو شامل کیا گیا ہے۔