ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

روس سے جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک،یوکرینی صدر کا اعتراف

کیف:یوکرینی  صدر نے یہ بات فرانسیسی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی، جس میں انہوں نے جنگ کے انسانی نقصانات اور موجودہ سفارتی کوششوں پر کھل کر بات کی۔

زیلنسکی کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں میں پیشہ ور سپاہی بھی شامل ہیں اور وہ اہلکار بھی جو جنگ کے دوران جبری طور پر بھرتی کیے گئے۔ انہوں نے لاپتہ فوجیوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے معلومات مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں اور حتمی اعداد و شمار کا تعین مشکل ہے، جنگ نے یوکرینی معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے اور ملک کو بھاری انسانی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔

واضح رہے کہ صدر زیلنسکی اس سے قبل فروری 2025ء میں ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں یوکرینی فوجی ہلاکتوں کی تعداد 46 ہزار سے زائد بتا چکے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران جنگ کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن میں قائم ایک معروف تھنک ٹینک کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کے تقریباً چار لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، تاہم یہ اعداد و شمار آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق صرف 2025ء کے دوران روسی حملوں میں 2,500 سے زائد یوکرینی شہری ہلاک اور 12 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ اقوام متحدہ نے شہری آبادی کے تحفظ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری پر زور دیا ہے۔

روس کو بھی اس جنگ میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یوکرینی فوجی قیادت کے مطابق 2025ء میں ہی روس کے تقریباً چار لاکھ 20 ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ برطانوی دفاعی انٹیلی جنس کے اندازوں کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک روسی فوج کے مجموعی نقصانات 11 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں۔

دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک یوکرین وہ فیصلے نہیں کرتا جو جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکیں۔ انہوں نے یہ بیان ابو ظہبی میں ہونے والے مذاکرات کے پس منظر میں دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ کسی قابلِ قبول سمجھوتے پر پہنچیں، تاہم زمین کے کنٹرول، ڈونباس خطے اور زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ جیسے حساس معاملات پر فریقین کے مؤقف میں اب بھی واضح فرق موجود ہے۔

فی الوقت روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے، جن میں کریمیا اور مشرقی ڈونباس کے بڑے حصے شامل ہیں جبکہ جنگ بندی کی کوششیں ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں