ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی حد بندی کا معاہدہ ختم

امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو محدود کرنے والا اہم عالمی معاہدہ نیو اسٹارٹ آج 5 فروری کو باقاعدہ طور پر ختم ہو گیا، جس کے بعد دونوں ممالک اب اس معاہدے کے دائرہ کار میں کسی بھی پابندی کے بغیر آزادانہ فیصلے کر سکتے ہیں، معاہدے میں توسیع یا کسی متبادل ڈھانچے پر دونوں فریقوں کے درمیان کوئی باہمی اتفاق رائے قائم نہیں ہو سکا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے اس سلسلے میں کہا کہ روس اسٹریٹیجک استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی ذرائع کے ذریعے اقدامات کرنے پر پُرعزم ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ نیو اسٹارٹ کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک آزاد ہیں کہ آئندہ جوہری پالیسی اور ہتھیاروں کی تعداد کا تعین خود کریں۔

معاہدے کے خاتمے سے ایک دن قبل روسی وزارتِ خارجہ نے جاری کیے گئے بیان میں واضح کیا تھا کہ اب امریکا اور روس کسی بھی ذمہ داری کے پابند نہیں رہیں گے اور مستقبل کے اقدام ان کے اختیار میں ہوں گے۔ اس اقدام کے بعد عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے توازن اور سکیورٹی کی صورتحال پر خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پایا تھا اور اس کے تحت امریکا اور روس جوہری وار ہیڈز اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی تعداد محدود رکھنے کے پابند تھے۔ ماہرین کے مطابق اس معاہدے کا خاتمہ عالمی امن اور اسٹریٹیجک استحکام کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطوں میں کشیدگی اور عسکری حریفانہ رویے شدت اختیار کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے فوری طور پر امریکا اور روس سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد نئے جوہری معاہدے پر دستخط کریں تاکہ عالمی سطح پر جوہری خطرات اور خدشات کو کم کیا جا سکے۔ عالمی ماہرین کے مطابق اس موقع پر شفاف مذاکرات اور بین الاقوامی ثالثی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے جوہری ہتھیاروں کے غیر محدود استعمال کے خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔

ماہرین بین الاقوامی تعلقات کے مطابق، نیو اسٹارٹ معاہدے کا خاتمہ صرف امریکا اور روس تک محدود اثر نہیں رکھتا، بلکہ اس کے اثرات عالمی جوہری پالیسی، خطوں میں عسکری توازن اور بین الاقوامی سکیورٹی فورمز میں بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جائیں گے۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں