ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عمران خان کی ذاتی معالجین سے طبی معائنے کی درخواست مسترد

راولپنڈی: انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ذاتی معالجین سے علاج اور میڈیکل چیک اپ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔

یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سید امجد علی شاہ نے مختصر حکم کی صورت میں سنایا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ جیل قوانین کے مطابق عمران خان کا مناسب اور باقاعدہ علاج جاری ہے، اس لیے ذاتی معالجین سے طبی معائنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عدالت کے مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق ملزم عمران خان کو جیل رولز کے تحت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کے علاج میں کسی قسم کی غفلت ثابت نہیں ہوتی۔

عدالت نے اس بنیاد پر ذاتی معالجین سے طبی معائنہ کروانے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ موجودہ صورتحال میں جیل کے میڈیکل نظام کو ناکافی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک اپ کی درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے عدالت کو بتایا تھا کہ درخواست گزار چاہتے ہیں کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم، ڈاکٹر خرم اور ڈاکٹر ثمینہ سے کروایا جائے تاکہ ان کی صحت کے بارے میں مکمل اور تسلی بخش رپورٹ حاصل ہو سکے۔

وکیل صفائی نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ذاتی معالجین سے طبی معائنہ ہر شہری کا آئینی، قانونی اور اخلاقی حق ہے اور عمران خان چونکہ سابق وزیراعظم رہ چکے ہیں، اس لیے انہیں یہ سہولت دینا قانون اور انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہوگا۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی دورانِ حراست ذاتی معالجین کی سہولت دستیاب رہی، لہٰذا عمران خان کو اس حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔

دفاع کی جانب سے یہ دلیل بھی دی گئی کہ جیل رول 795 کے تحت جیل انتظامیہ کسی بھی قیدی کے میڈیکل چیک اپ یا علاج کے حوالے سے اہل خانہ کو آگاہ کرنے کی پابند ہے، تاہم عمران خان کے اہل خانہ کو مکمل طبی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

فیصل ملک نے عدالت کو بتایا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے باقاعدہ میڈیکل رپورٹ جمع نہیں کروائی بلکہ صرف یہ بتایا کہ عمران خان کا علاج جاری ہے، جو قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں