پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے حکومت سے ڈبا پیک دودھ بنانے والی کمپنیوں کو مؤثر طور پر ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان بزنس فورم کے مطابق ڈیری مصنوعات روزمرہ استعمال کی بنیادی ضرورت ہیں، مگر اس شعبے میں مناسب نگرانی کا فقدان ہے۔ فورم کا کہنا ہے کہ دودھ بنانے والی کمپنیاں ریٹیل مارکیٹ میں فی لیٹر دودھ 360 سے 380 روپے تک فروخت کر رہی ہیں، جبکہ خریداری قیمت اور لاجسٹکس اخراجات شامل کرنے کے باوجود دودھ کی اصل لاگت تقریباً 180 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔
پی بی ایف کے مطابق بھارت اور بنگلادیش میں ٹیٹرا پیک دودھ کی قیمت پاکستانی کرنسی میں 250 سے 270 روپے فی لیٹر کے درمیان ہے، جبکہ پاکستان میں معروف ڈیری کمپنیوں کی 2025 میں آمدنی 60 سے 100 ارب روپے تک رہی ہے۔
پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر احمد جواد نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ڈیری مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح 7 فیصد مقرر کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کم کرنے کے حکومتی دعوے عملی شکل اختیار نہیں کر پا رہے، اس لیے ٹیٹرا پیک دودھ کی قیمت میں فی لیٹر کم از کم 50 روپے کی فوری کمی کرائی جائے۔