بنگلادیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے بعد جماعت اسلامی نے انتخابی عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جماعت اسلامی نے اپنے فیس بک پیج کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ووٹرز کی مثبت اور پرامن شرکت قابل ستائش ہے، لیکن انتخابی نتائج کی شفافیت کے حوالے سے متعدد سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
جماعت اسلامی نے نشاندہی کی کہ 11 جماعتی اتحاد کے کئی امیدوار معمولی مارجن سے ہار گئے، غیر سرکاری نتائج میں بار بار تضادات اور غلط بیانی سامنے آئی، اور انتخابی کمیشن کی جانب سے ووٹر ٹرن آؤٹ کا فیصد جاری نہ کرنا بھی خدشات بڑھاتا ہے۔
پارٹی نے کہا کہ انتظامیہ کے بعض حصوں میں بڑی سیاسی جماعت کے لیے سہولت کاری کے آثار دیکھنے میں آئے، جو انتخابی عمل کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
بیان میں عوام سے صبر اور تحمل کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ 11 جماعتی اتحاد کے باضابطہ پروگرام کا انتظار کیا جائے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔
جماعت اسلامی نے اس موقع پر واضح کیا کہ بنگلادیش کے لیے ان کی سیاسی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ عوامی حقوق اور شفاف انتخابی عمل کے لیے سرگرم رہیں گے۔