ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کا بڑا حصہ مختلف ٹیکسوں اور لیویز پر مشتمل ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ توانائی کی دستاویز کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 39 فیصد حصہ ٹیکسز کا ہے، جس سے عوام پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فی لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 100 روپے 21 پیسے ٹیکس عائد ہیں۔ اس رقم میں کسٹم ڈیوٹی، پٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہیں۔ اسی طرح ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 94 روپے 93 پیسے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جو اس کی قیمت کا تقریباً 34 فیصد بنتا ہے۔
دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور ڈیلرز بھی فی لیٹر مخصوص مارجن وصول کرتے ہیں، جس سے قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے حالیہ اعلان میں پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے مقرر کی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 32 پیسے اضافے کے بعد 275 روپے 70 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہِ راست ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مرتب ہوتے ہیں، جس سے مہنگائی کی نئی لہر کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
عوامی حلقوں میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی لا کر ریلیف فراہم کیا جائے، تاہم فی الحال قیمتوں میں اضافے نے صارفین کو ایک بار پھر مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔