نوابشاہ: یہ وہی شہر ہے جسے فخر سے صدرِ مملکت کا آبائی شہر کہا جاتا ہے اور جہاں کے نام کے ساتھ ہمیشہ آصف علی زرداری کی نسبت جوڑی جاتی ہے۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ اسی شہر کے باسی آج ایک ایک بوند صاف پانی کو ترس رہے ہیں۔
کہتے ہیں اقتدار کے ایوانوں تک سب خبریں پہنچتی ہیں، مگر شاید نوابشاہ کے نلکوں کی سسکیاں راستہ بھول جاتی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی کئی دن پانی غائب رہتا ہے اور جب کبھی مہربانی فرما کر آ بھی جائے تو اس کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ دیکھ کر ہی پیاس مر جائے۔ گندا، بدبودار اور مضرِ صحت پانی جیسے شہریوں کے صبر کا امتحان لے رہا ہو۔
گھر گھر کہانی ایک جیسی ہے۔ مائیں بچوں کو ابال کر پانی پلانے پر مجبور ہیں، بزرگ پیٹ کی بیماریوں سے نڈھال ہیں اور نوجوان جلدی امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی ترقی ہے؟ کیا یہی وہ سہولیات ہیں جن کے وعدے ہر انتخابی مہم میں گونجتے ہیں؟
شہر کی واٹر سپلائی لائنیں ٹوٹ پھوٹ کا منظر پیش کر رہی ہیں، فلٹریشن پلانٹس بند پڑے ہیں اور انتظامیہ کی خاموشی سب سے زیادہ گونج رہی ہے۔ لوگ صاف پانی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، ٹینکر مافیا کی چاندی ہو رہی ہے اور عام شہری کی جیب خالی ہو رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صدر کے شہر کا یہ حال ہے تو باقی ملک کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ طنز کی حد یہ ہے کہ جس شہر کو سیاسی طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہی بنیادی ضرورت یعنی صاف پانی سے محروم ہے۔
اہلِ نوابشاہ نے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ خدارا اس شہر کو پیاسا نہ رہنے دیا جائے۔ صاف پانی کوئی عیاشی نہیں، یہ بنیادی حق ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کیا اس حق کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے گی، یا نوابشاہ کی پیاس یونہی خبروں کی زینت بنتی رہے گی؟