ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارت:جادو ٹونے کے الزام پر ہجوم نے خاتون اور ایک سالہ بچے کو زندہ نذرِ آتش کر دیا

بھارت کی ریاست جھارکھنڈ میں توہم پرستی کی ایک ہولناک مثال سامنے آئی ہے جہاں مبینہ طور پر جادو ٹونے کے الزام میں ایک خاتون کو اس کے ایک سالہ معصوم بچے سمیت زندہ نذرِ آتش کر دیا گیا۔ افسوسناک واقعہ مغربی سنگھ بھوم کے ایک دیہی علاقے میں پیش آیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 32 سالہ خاتون کو مقامی افراد نے ڈائن قرار دیتے ہوئے اس کے گھر کا گھیراؤ کیا۔ رات گئے مشتعل ہجوم متاثرہ خاندان کے مکان کے باہر جمع ہوگیا اور شور شرابا کرتے ہوئے دھمکیاں دینے لگا۔ اس دوران حالات اس قدر کشیدہ ہوگئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے بات جان لیوا حملے میں بدل گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کے شوہر نے جب باہر نکل کر لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی تو ہجوم نے اس پر بھی حملہ کر دیا۔ بعد ازاں مشتعل افراد نے خاتون اور اس کے کمسن بچے پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حملے کے دوران شوہر شدید زخمی ہوا، تاہم وہ کسی طرح جان بچانے میں کامیاب ہوگیا اور اگلے روز پولیس اسٹیشن پہنچ کر واقعے کی اطلاع دی۔

پولیس کے مطابق اطلاع ملتے ہی نفری موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مقتولہ پر جادو ٹونے کا بے بنیاد الزام عائد کیا گیا تھا، جسے بنیاد بنا کر یہ سفاکانہ اقدام کیا گیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے شوہر کی مدعیت میں مقدمہ درج کرتے ہوئے چار مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے جب کہ دیگر ممکنہ کرداروں کی تلاش اور تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر بھارت کے بعض دیہی علاقوں میں رائج توہم پرستانہ عقائد اور سماجی پسماندگی کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں آج بھی خواتین کو بے جا الزامات کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داران کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش سانحات کا سدباب ممکن ہو سکے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں