لبنان کے جنوبی علاقے میں واقع فلسطینی پناہ گزین کیمپ عین الحلوہ ایک بار پھر خونریز حملے کا نشانہ بن گیا جب اسرائیلی فضائیہ نے مبینہ طور پر وہاں بمباری کی جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ایک عبادت گاہ بھی متاثر ہوئی۔
عین الحلوہ کیمپ لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کا سب سے بڑا کیمپ سمجھا جاتا ہے اور ماضی میں بھی سیکیورٹی کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔
اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف حماس کا کمانڈ سینٹر تھا اور یہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی، تاہم مختلف ذرائع میں ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آئیں، اگرچہ زیادہ تر رپورٹس میں 10 افراد کی تصدیق کی گئی ہے۔
دوسری جانب حماس نے اسرائیلی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نشانہ بنائی گئی عمارت کسی عسکری مرکز کے طور پر استعمال نہیں ہو رہی تھی بلکہ وہاں سیکورٹی سے متعلق انتظامات تھے جو پناہ گزینوں کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے تھے۔
حماس نے اس حملے کو بین الاقوامی قانون اور لبنان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس حملے سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب غزہ اور سرحدی علاقوں میں بھی حالات کشیدہ ہیں۔ لبنان کی حکومت کی جانب سے تاحال مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سفارتی سطح پر ردعمل متوقع ہے۔