ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارتی عدالت عظمیٰ:نوجوان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت

نئی دہلی:بھارت میں ایک اہم عدالتی فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے 13 سال سے کومے میں زندگی گزارنے والے نوجوان کو لائف سپورٹ ہٹانے کی اجازت دے دی۔

عدالت نے ہرش رانا نامی 31سالہ شخص کے والدین کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریض کی حالت میں بہتری کی کوئی امید نہیں، اس لیے انسانی وقار کو مدِنظر رکھتے ہوئے لائف سپورٹ واپس لیا جا سکتا ہے۔

عدالت کا یہ فیصلہ جسٹس جے بی پردیوالا اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل بینچ نے سنایا۔

 فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لائف سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ دو بنیادوں پر ہونا چاہیے کہ علاج کو طبی مداخلت تصور کیا جائے اور یہ فیصلہ مریض کے بہترین مفاد میں ہو۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ڈاکٹر کا فرض مریض کا علاج کرنا ہے، مگر جب صحت یابی کی کوئی امید نہ رہے تو یہ ذمے داری اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔

عدالت نے ہدایت دی کہ مریض کو اسپتال میں پالی ایٹو کیئر کے تحت رکھا جائے اور لائف سپورٹ باعزت طریقے سے مرحلہ وار ختم کیا جائے۔

عدالت عظمیٰ نے موجودہ فیصلے میں حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اس حوالے سے واضح قانون سازی پر غور کیا جائے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ہرش رانا 2023 میں یونیورسٹی کے طالب علم تھے اس دوران وہ ایک عمارت کی چوتھی منزل سے گر گئے تھے، جس کے نتیجے میں شدید دماغی چوٹ کے باعث وہ مستقل ویجیٹیٹو اسٹیٹ میں چلے گئے۔

اس کے بعد سے وہ بستر تک محدود رہے، سانس لینے کے لیے ٹریکیوسٹومی ٹیوب اور خوراک کے لیے فیڈنگ ٹیوب پر انحصار کرتے رہے۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں