اسلام آباد : وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے کا سارا ملبہ آئی ایم ایف پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت لیوی بڑھانا پڑی۔
اطلاعات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس ہوا، جس میں وزیرِ مملکت برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ٹیکسز کے ڈھانچے اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی شرائط پر تفصیلی بریفنگ دی۔
انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کے اہداف پورا کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی میں مزید اضافے کا دباو ¿ ہے، جس کے تحت ڈیزل اور پٹرول پر لیوی کو 160 روپے فی لیٹر تک پہنچانے کا ہدف دیا گیا ہے۔
علی پرویز ملک نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند رہنے کی سب سے بڑی وجہ ان پر عائد بھاری لیوی ہے۔
جب مالی سال کا بجٹ تیار کیا گیا تھا، تو آئی ایم ایف کے ساتھ 80 روپے فی لیٹر لیوی وصول کرنے کا معاہدہ طے پایا تھا، بجٹ کے بعد معاشی حالات تبدیل ہوئے، جس کے باعث آئی ایم ایف کے پروگرام کو برقرار رکھنے کے لیے لیوی میں اضافہ کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھائوکے دوران اپنے ٹیکسز میں کمی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا لیکن پاکستان میں آئی ایم ایف پروگرام کی سخت شرائط اور ریونیو کے اہداف کی وجہ سے حکومت ٹیکس یا لیوی کم کرنے کی پوزیشن میں نہیں، جس کا براہِ راست بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے۔
آئی ایم ایف کا حتمی ہدف پٹرول اور ڈیزل پر لیوی کو 160 روپے فی لیٹر تک لے جانا ہے، جو کہ موجودہ شرح سے کہیں زیادہ ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ کمیٹی ارکان نے لیوی میں ممکنہ اضافے اور قیمتوں کے بوجھ پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جنہیں بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب محض عالمی مارکیٹ پر نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ریونیو اہداف پر منحصر ہو چکا ہے۔
