اسلام آباد: نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے میں مزید تاخیر کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب یہ 10 جون کے بجائے 12 جون کو پیش کیا جائے گا۔ بجٹ کی تیاری کے حتمی مراحل کے دوران اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے قومی اقتصادی کونسل کا آج ہونے والا اہم اجلاس بھی ملتوی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اجلاس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف نے کرنی تھی جس میں آئندہ مالی سال کے قومی ترقیاتی بجٹ اور معاشی اہداف کی باضابطہ منظوری دی جانی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے نئے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا جس کے فوری بعد بجٹ کے لیے حتمی تاریخ کا تعین ہوگا۔ اس کونسل میں وفاقی وزارتوں اور صوبوں کے اہم ترقیاتی منصوبوں اور معاشی ترقی کی شرح کے اہداف پر تفصیلی غور ہونا تھا۔
بجٹ سے متعلق بتایا گیا ہے کہ مجوزہ ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 4 ہزار 715 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس میں وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 1126 ارب روپے جبکہ صوبائی سطح کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 3 ہزار 138 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
ریاستی ملکیتی ادارے اپنی ترقیاتی اسکیموں پر 451 ارب روپے الگ سے خرچ کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس اہم اجلاس میں وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126 ارب روپے میں مزید 200 ارب روپے شامل کرنے کی تجویز بھی خصوصی طور پر زیر بحث لائی جانی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اگر ان تجاویز کی منظوری دے دی جاتی ہے تو وفاقی ترقیاتی پروگرام کا کل حجم 1326 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ حکومت ان منصوبوں کے ذریعے ملک میں معاشی استحکام اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس ملتوی ہونے کے باوجود حکومتی مشینری بجٹ کی تیاریوں میں مصروف عمل ہے۔ تمام متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات کو حتمی شکل دیں۔ یہ بجٹ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔