سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صارفین کو 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ سولر اسکیم کے ذریعے پورا کیا جائے گا اور بجلی کے نرخوں میں حالیہ نظرثانی کا اس اسکیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے چار سال بعد بجلی کے نرخوں میں 6.83 فیصد اضافہ کیا ہے، جبکہ سابقہ حکومتوں کے دور میں بجلی کے نرخوں میں 14 فیصد سے زیادہ اور چار سال قبل تقریباً 15 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ہم نے بجلی کے نرخوں میں ممکنہ حد تک کم اضافہ کیا ہے۔ ہم نرخوں میں اضافے پر خوش نہیں ہیں، لیکن یہ ہمارے لیے ایک مجبوری تھی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں نقصانات میں کمی آنے کے ساتھ مستقبل میں اس طرح کے اقدامات کی ضرورت بھی کم ہوتی جائے گی۔
حکومتی سطح پر ردوبدل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ جب بھی ضرورت محسوس ہوئی، کابینہ میں ردوبدل کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے صرف 15 اگست سے قبل ردوبدل کے امکان کو مسترد کیا تھا۔انہوں نے کہا، ’’حکومت میں کوئی بحران نہیں ہے۔ ہمارا کام جاری ہے۔ جب ردوبدل کی ضرورت ہوگی تو ہم ایسا کریں گے۔‘‘
کشمیری پنڈت ملازمین کو مبینہ طور پر موصول ہونے والی دھمکیوں کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے اسے تشویش کا معاملہ قرار دیتے ہوئے پولیس، سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کی مکمل اور جامع تحقیقات کریں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ایسی دھمکیوں کو کسی بھی صورت میں معمولی نہیں سمجھا جانا چاہیے اور ملازمین کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا پولیس کی اہم ذمہ داری ہے۔
انہوں نے ماضی میں کشمیری پنڈت ملازمین کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکام کو تازہ دھمکیوں کے ماخذ کا پتہ لگانا چاہیے اور ملازمین کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ امن و قانون اور سکیورٹی سے متعلق معاملات لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، تاہم متعلقہ ایجنسیوں کو اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرنی چاہیے۔