ٹنگمرگ/جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز عوام کو یقین دلایا کہ آئندہ اپنے دورِ حکومت میں بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ ساڑھے تین سال کے دوران عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرے گی۔ٹنگمرگ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نےکہا کہ حالیہ بجلی ٹیرف میں نظرثانی کے ذریعے صارفین پر محدود اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کے دور میں بھی بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا، ’’جب یہ لوگ اقتدار میں تھے اور انہیں بجلی کے نرخ بڑھانے پڑے تو چار سال پہلے نرخوں میں 13 سے 15 فیصد تک اضافہ کیا گیا تھا۔‘‘
سابقہ پی ڈی پی-بی جے پی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’جب محبوبہ مفتی وزیراعلیٰ تھیں تو بجلی کے نرخوں میں 13.5 سے 14 فیصد تک اضافہ کیا گیا تھا۔‘‘حالیہ ٹیرف میں اضافے پر ہونے والی تنقید پر سوال اٹھاتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، ’’آپ اس وقت خاموش کیوں رہے؟ کیا اس وقت آپ کو محسوس نہیں ہوا کہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے؟‘‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے صارفین پر اضافی بوجھ کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا، ’’میری پوری کوشش ہوگی کہ ان شاء اللہ اس حکومت کے دوران اب اس کے بعد بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ نہ کیا جائے‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ اب حکومت کی توجہ بنیادی عوامی خدمات اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر مرکوز ہوگی، جن میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، اسکولوں کی مرمت، صحت کے مراکز میں ڈاکٹروں کی دستیابی، سڑکوں کی بہتری اور باغبانی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہے۔انہوں نے کہا، ’’باقی کام لوگوں کو صاف پینے کا پانی فراہم کرنا، بچوں کے لیے اسکولوں کی مرمت کرنا، اسپتالوں میں ڈاکٹروں کو تعینات کرنا، سڑکوں کو بہتر بنانا، فروٹ منڈی قائم کرنا اور علاقے کو ترقی دینا ہے۔‘‘
وزیراعلیٰ نے اپنی حکومت کے باقی ماندہ دور میں عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے عوام سے جو بھی وعدے کیے ہیں، ان شاء اللہ اگلے ساڑھے تین سال میں وہ تمام وعدے پورے کریں گے اور پھر آپ کے سامنے پیش ہوں گے۔‘‘