یہ فیصلہ ملک کے امن، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ وزارت خارجہپیرو
فائل فوٹو
پیرو نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کردیا۔
پیرو کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ ملک کے امن، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
پیرو حکومت نے ایران میں جمہوری اقدار کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پرامن مظاہروں کے خلاف کارروائی، آزادیٔ صحافت میں کمی، خواتین اور لڑکیوں سے امتیازی سلوک اور سیاسی مخالفین کے خلاف مبینہ اقدامات کو فیصلے کی وجوہات میں شامل کیا ہے۔
پیرو نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بین الاقوامی تجارت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور خبردار کیا کہ صورتحال کے باعث توانائی کی قیمتوں اور عالمی سپلائی چین پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے خطے میں کشیدگی بڑھانے، تشدد پر اکسانے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے اقدامات کو بھی مسترد کیا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور خطے میں حملوں کے تبادلے کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
تاہم پیرو نے واضح کیا ہے کہ سفارتی تعلقات ختم ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے شہریوں اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے ویانا کنونشنز کے تحت قونصلر تعلقات برقرار رہیں گے۔
پیرو نے اپنے فیصلے سے ایران کو ایک سفارتی نوٹ کے ذریعے آگاہ کیا، جو ایکواڈور میں موجود ایرانی سفارت خانے کے ذریعے پہنچایا گیا۔