ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جعلی تقرری و تبادلے کے احکامات جاری کرنے کے الزام میں 5 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل


سرینگر/اقتصادی جرائم ونگ (EOW) کشمیر، کرائم برانچ جموں و کشمیر نے محکمہ تعلیم میں جعلی تقرری، تبادلے اور ریلیونگ آرڈرز تیار کرنے اور استعمال کرنے کے الزام میں پانچ افراد کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔کرائم برانچ کے ترجمان نے جاری ایک بیان میں بتایا کہ EOW کشمیر نے ایف آئی آر نمبر 36/2021 کے تحت دفعات 420، 467، 468، 471، 201 اور 120-B RPC کے تحت پانچ ملزمان کے خلاف چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، بڈگام کی عدالت میں چارج شیٹ پیش کی ہے۔
ملزمان کی شناخت نثار احمد بھٹ ولد غلام حسین بھٹ ساکن اقبال کالونی، ترال، پلوامہ؛ شاکر گل ولد شیخ گل محمد ساکن کچڈورہ، شوپیاں؛ محمد ایاز راتھر ولد عبدالرحمن راتھر ساکن ٹکی پورہ، رتن پورہ، شوپیاں؛ شیخ روحیل احمد ولد شیخ شفیق احمد ساکن کچڈورہ، شوپیاں؛ اور تنویر احمد راتھر ولد عبد الرحمن راتھر ساکن خودپورہ موگام، اننت ناگ کے طور پر ہوئی ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ معاملہ ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر کی جانب سے موصولہ ایک مراسلے کے بعد سامنے آیا، جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ تین افراد نے زون نگام، چرار شریف، بڈگام میں اساتذہ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی اور اس کے لیے ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کردہ تبادلے اور ایڈجسٹمنٹ کے احکامات پیش کیے گئے تھے۔اس معاملے کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ مذکورہ احکامات پر جعلی دستخط، فرضی آرڈر نمبرز اور ڈسپیچ و توثیقی نمبرز درج تھے۔
ZEO نگام اور CEO بڈگام سے حاصل کیے گئے ریکارڈ سے تصدیق ہوئی کہ محمد ایاز راتھر، شیخ روحیل احمد اور تنویر احمد راتھر کو انہی مشکوک دستاویزات کی بنیاد پر منتقل یا ایڈجسٹ کیا گیا تھا۔ ڈائریکٹوریٹ سے مزید تصدیق کے دوران معلوم ہوا کہ اس کا آرڈر بک 31 دسمبر 2019کو بند ہو چکا تھا، جس سے ثابت ہوا کہ متعلقہ آرڈر اور توثیقی نمبرز فرضی تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مذکورہ تینوں افراد کو محکمہ تعلیم میں کہیں بھی باقاعدہ طور پر مقرر ہی نہیں کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے مطابق ملزمان نثار احمد بھٹ، جو خود ایک استاد ہے، اور شاکر گل نے مبینہ طور پر سہولت کار اور درمیانی کردار ادا کیا، جبکہ نثار احمد بھٹ نے جعلی سرکاری دستاویزات تیار کرنے اور پرنٹ کرنے کے لیے ضروری وسائل اور انتظامات فراہم کیے۔کرائم برانچ کے مطابق تحقیقات کے دوران الزامات ثابت ہونے کے بعد معاملہ عدالتی تعین کے لیے عدالت میں چارج شیٹ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں