امریکی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے زیادہ طاقتور اے آئی ماڈل متعارف کرا دیا ہے، اور یوں اپنے حریفوں کے مزید قریب پہنچ گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹا پلیٹ فارمز انکارپوریٹڈ نے مصنوعی ذہانت کا اب تک کا اپنا سب سے طاقت ور ماڈل متعارف کرا دیا ہے، جب کہ کمپنی کے چیف اے آئی افسر کا کہنا ہے کہ اس کی صلاحیتیں سرِفہرست حریفوں کے مزید قریب پہنچ گئی ہیں۔
کمپنی نے کہا تھا کہ 2 ستمبر (گزشتہ روز) سے ڈویلپرز ’’میوز اسپارک 1.3‘‘ (Muse Spark 1.3) تک رسائی حاصل کر سکیں گے اور اس کے لیے ادائیگی بھی کر سکیں گے۔ یہ اس کے جدید ترین ماڈل کا اپ ڈیٹ شدہ ورژن ہے۔ کمپنی جلد ہی یہ اپ ڈیٹ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، مثلاً انسٹاگرام اور فیس بک، کے صارفین کے ساتھ ساتھ میٹا اے آئی کے صارفین کے لیے بھی جاری کرے گی۔
میٹا کے چیف اے آئی افسر الیگزینڈر وانگ نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں کہا ’’یہ اب تک ماڈل کی کارکردگی میں ہماری سب سے بڑی چھلانگ ہے۔‘‘ وانگ نے کہا کہ اس اپ ڈیٹ نے میٹا کو اس کے حریفوں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے حال ہی میں جاری کیے گئے اے آئی ماڈلز کے برابر پہنچا دیا ہے۔
وانگ نے کہا کہ ’’میوز اسپارک 1.3‘‘ اینتھروپک کے ماڈل ’’کلاڈ فیبل 5.1‘‘ (Claude Fable 5.1) کے ساتھ ’’مقابلہ‘‘ کر رہی ہے اور خاص طور پر کوڈنگ کے معاملے میں اوپن اے آئی کے ’’جی پی ٹی-5.6 سول‘‘ (GPT-5.6 Sol) سے ’’بہتر‘‘ ہے، اگرچہ اوپن اے آئی جلد ہی ایک نیا اور اس سے بھی زیادہ جدید ماڈل جاری کرنے والی ہے جسے ’’آسٹرا‘‘ (Astra) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں میٹا کا ماڈل ’’اس وقت موجود کسی بھی چینی ماڈل‘‘ سے بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔
وانگ نے کہا کہ میٹا نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ ’’میوز اسپارک 1.3‘‘ کے ویٹس (weights) جاری کرے گی یا نہیں۔ ویٹس دراصل ماڈل کا وہ داخلی بلیو پرنٹ ہیں جو تربیت کے عمل کے دوران تشکیل پاتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ ماڈل کس طرح ردِعمل ظاہر کرے گا۔ ویٹس جاری کرنے سے بیرونی ڈویلپرز کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ ماڈل کو خود ڈاؤن لوڈ کریں، چلائیں یا اس کی بنیاد پر مزید کام کریں۔ وانگ نے کہا کہ کمپنی اب بھی سابقہ ورژن ’’میوز اسپارک 1.2‘‘ کے ویٹس جاری کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
اس ماڈل کو واٹر میلن کا نام دیا گیا ہے، تاہم میٹا کے چیف اے آئی افسر نے اس کی ریلیز کے مخصوص وقت کے بارے میں بتانے سے انکار کر دیا۔ وانگ کے مطابق یہ ماڈل زیادہ مؤثر انداز میں کام کرتا ہے، یہ الگ الگ سیشنز کی ضرورت کی بہ جائے بہ یک وقت متعدد ورک فلو جاری رکھ سکتا ہے، یہ طویل اور پیچیدہ ہدایات کو سنبھالنے اور متعدد کاموں کے دوران تفصیلات برقرار رکھنے میں بہتر ہے، اسے اپنی حدود کا زیادہ بہتر ادراک ہے اور یہ زیادہ محفوظ ہے، ضرورت پڑنے پر وضاحت طلب کرتا ہے اور ایسے اقدامات کرنے سے پہلے تصدیق حاصل کرتا ہے جنھیں واپس تبدیل کرنا ممکن نہ ہو۔
انھوں نے کہا ’’ہم نے اس ماڈل کو جاری کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے لیے ہر سطح پر وسیع پیمانے پر سیفٹی ٹیسٹنگ اور سیفٹ ٹریننگ کی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ میٹا کے ایک سابقہ ماڈل نے سائبر سیکیورٹی کی جانچ کے دوران انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور ایک بیرونی سروس کے نظام میں ہیکنگ کی، جو ماڈل تیار کرنے والی کمپنیوں سے متعلق حالیہ دیگر واقعات کی یاد دلاتا ہے۔ ان واقعات نے اپنی ٹیکنالوجی پر کنٹرول کے حوالے سے خدشات پیدا کیے ہیں۔ وانگ نے کہا کہ اس واقعے سے کمپنی کو ’’میوز اسپارک 1.3‘‘ کی حفاظت اور سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے اپنا طریقۂ کار بہتر بنانے میں مدد ملی۔