ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ہلدوانی میں ہوئے ’شدھی کرن‘ کے شرمناک معاملے پر نریندر مودی اور امت شاہ دونوں خاموش بیٹھے ہیں: ملکارجن کھڑگے

اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ریلی کے بعد ’شدھی کرن‘ کے معاملہ پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پریس کانفرنس کر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے کل راجیہ سبھا کے قائد ایوان جے پی نڈا کو خط لکھ کر یاد دلایا کہ 25 روز کے بعد بھی ہلدوانی کے شرمناک واقعہ پر حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ اس کے برعکس حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے خلاف کارروائی کر دی گئی ہے، کیونکہ انہوں نے شدھی کرن کے شرمناک واقعہ پر پریس کانفرنس کر آواز اٹھائی تھی۔ یہ کارروائی بہت عجیب ہے، کیونکہ راہل گاندھی مسلسل سماج کے ہر طبقہ کی آواز اٹھاتے رہے ہیں لیکن بی جے پی یہ سب کر کے ہماری پارٹی کو ڈرا نہیں سکتی۔‘‘

ملکارجن کھڑگے نے ’شدھی کرن‘ کے حوالے سے مزید کہا کہ ’’آج اس واقعہ کا تعلق صرف مجھ سے نہیں بلکہ ملک کے دلت طبقہ سے ہے۔ بی جے پی باتیں تو بڑی بڑی کرتی ہے لیکن وہ متاثرین کی آواز اٹھانے والے کو ہی دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ میرا بی جے پی سے صرف یہی کہنا ہے کہ ملک کے لوگوں کو ذات اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا بند کرو، یہ ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’13 اگست 2026 کو راجیہ سبھا میں میں نے ہلدوانی معاملہ پر بات رکھی تھی۔ اس پر جے پی نڈا نے کہا تھا کہ اس کی تحقیقات ہوگی اور جو بھی قصوروار پایا جائے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ چیئرمین صاحب نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے واقعات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔‘‘

ملکارجن کھڑگے کے مطابق ہلدوانی کا واقعہ سیدھے طور پر چھوا چھوت کا معاملہ ہے۔ ہلدوانی میں ’شدھی کرن‘ کر کے دلتوں کو پیغام دیا گیا کہ ہم اعلیٰ ہیں اور وہ نیچی ذات کے ہیں، اس لیے ’شدھی کرن‘ کیا گیا۔ بابا صاحب امبیڈکر نے سالوں قبل مہاڑ تحریک چلائی تھی، کیونکہ اس وقت دلتوں کو ذات پر مبنی امتیاز کے باعث پانی پینے اور اس کے استعمال سے محروم رکھا جاتا تھا۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے بابا صاحب امبیڈکر نے آئین میں آرٹیکل 17 شامل کیا، تاکہ چھوا چھوت کو ختم کیا جا سکے۔ بی جے پی حکومت کی آنکھوں کے سامنے ہلدوانی میں ’شدھی کرن‘ کا واقعہ پیش آیا اور اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تو سوچیے ملک کے باقی حصوں میں کیا ہوتا ہوگا۔

کانگریس صدر کا کہنا ہے کہ ’’پورے ملک نے ہلدوانی میں ہوئے ’شدھی کرن‘ کی تصاویر دیکھی ہیں، اس کے باوجود اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کہہ رہے ہیں کہ وہاں کچھ بھی نہیں ہوا۔ دوسری جانب جب راہل گاندھی دلتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہے۔‘‘ ان کے مطابق راہل گاندھی کو صرف ملک کے لوگوں کی فکر ہے۔ اگر اس کے لیے کوئی انہیں سزا دینا چاہتا ہے تو ہم اس کے خلاف مضبوطی سے لڑائی لڑیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میں ملک کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ راہل گاندھی اور ان کے اصولوں کے ساتھ کھڑے ہوں، کیونکہ بی جے پی ہر مسئلے کو سیاسی پولرائزیشن کا رنگ دے رہی ہے۔‘‘

پریس کانفرنس کے دوران ملکارجن کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ ’’ہلدوانی میں ہوئے شدھی کرن کے شرمناک معاملے پر نریندر مودی اور امت شاہ دونوں خاموش بیٹھے ہیں۔ خواہ رام مندر میں ’چڑھاوا چوری‘ کا واقعہ ہو یا دلتوں اور خواتین پر مظالم کا معاملہ ہو، یہ دونوں کسی بھی برے واقعات پر کبھی کچھ نہیں بولتے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’جب تک بی جے پی اقتدار میں رہے گی تب تک ’منوواد‘ کا پرچار کرتی رہے گی۔ لیکن ہم گاندھی جی، نہرو جی اور امبیڈکر جی کے نظریات کے لوگ ہیں اور ہم اسی کے ساتھ چلیں گے۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں