ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ آسان حل جانیے

کراچی (3 ستمبر 2026): سوشل میڈیا اکاؤنٹس بالخصوص واٹس ایپ کی سکیورٹی اور ہیکنگ سے بچاؤ کے حوالے سے اہم حفاظتی تدابیر اور طریقہ کار سامنے آگیا جو انتہائی آسان ہے۔

اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں سائبر سکیورٹی ایکسپرٹ آصف اقبال نے واٹس ایپ کی سکیورٹی سے اہم معلومات فراہم کی جبکہ یہ بھی بتایا کہ اگر کسی شہری کا اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو اسے کیا کرنا چاہیے۔

سائبر سکیورٹی ایکسپرٹ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آنے والے سکیورٹی مسائل سے گھبرانے کے بجائے احتیاطی تدابیر اور سرکاری اداروں سے بروقت رجوع کر کے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

آصف اقبال نے بتایا کہ اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ہی اکاؤنٹ ہیکنگ کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جہاں بعض اوقات لاعلمی یا غفلت کی وجہ سے صارفین دھوکے بازوں کے ہتھکنڈوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے واٹس ایپ ہیک ہونے کی صورت میں فوری ردعمل کا طریقہ کار واضح کرتے ہوئے چند اہم نکات پر روشنی ڈالی جو درج ذیل ہیں:

ٹو فیکٹر اتھنٹیکیشن:

واٹس ایپ اور دیگر تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سکیورٹی کی اضافی تہہ کے طور پر ٹو فیکٹر اتھنٹیکیشن کا فیچر لازمی فعال کرنا چاہیے، اس سے اکاؤنٹ غیر مجاز رسائی سے محفوظ رہتا ہے۔

ای میل منسلک کرنا:

اکاؤنٹ بناتے وقت اس کے ساتھ اپنی ای میل لازمی منسلک کریں، اگر اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو منسلک ای میل کے ذریعے 10 سے 15 منٹ کے اندر واٹس ایپ ریکور کیا جا سکتا ہے۔

سم کارڈ سے بحالی:

ہیک ہونے کے ایک گھنٹے کے بعد پرانی سم کارڈ کے ذریعے بھی اکاؤنٹ کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے کیونکہ واٹس ایپ اکاؤنٹ سم سے منسلک ہوتا ہے۔

آئی فون اور اینڈرائیڈ کا فرق:

اگر کوئی صارف آئی فون استعمال کر رہا ہو تو اکاؤنٹ کی فوری ریکوری کیلیے اسے ایک بار اینڈرائیڈ فون کے ذریعے ای میل کر کے عمل مکمل کرنا پڑتا ہے۔

سایبر کرائم اداروں سے مدد:

این سی سی آئی اے جیسے متعلقہ اداروں میں ماہرین موجود ہوتے ہیں جو ایسے کیسز میں صرف 15 سے 30 منٹ کے اندر اکاؤنٹ بحال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، متاثرہ افراد کو گھبرانے کے بجائے فوری طور پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنا چاہیے۔

ہیکرز کے مالیاتی فراڈ سے بچاؤ:

اکاؤنٹ ہیک ہونے کے بعد ملزمان اکثر کانٹیکٹ لسٹ پر موجود افراد کو میسجز کر کے رقوم کا مطالبہ کرتے ہیں اور ایزی پیسہ یا بینک اکاؤنٹس نمبر دیتے ہیں، ایسے نمبرز اور تفصیلات کو محفوظ رکھ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کرنا چاہیے تاکہ ملزمان کو مالیاتی ٹرانزیکشنز کے ذریعے پکڑا جا سکے۔

پرائیویسی کی درست سیٹنگز:

سوشل میڈیا پر تصاویر یا ذاتی مواد اپ لوڈ کرتے وقت اس کی پرائیویسی سیٹنگز کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ غیر متعلقہ افراد ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں