نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ ’سانس‘ رپورٹ میں کہا ہے کہ شہر کی پی ایم10 آلودگی کا گزشتہ سال کے مقابلے میں مسلسل بدتر رہنے والا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے، تاہم رواں سال کے مجموعی اعداد و شمار اب بھی دہلی کی ہوا کی خراب صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق 2026 میں اب تک 253 دنوں کے اعداد و شمار دستیاب ہیں، جن میں 167 دن پی ایم10 کی سطح گزشتہ سال کے متعلقہ دنوں سے زیادہ رہی۔
ماکن کی تازہ رپورٹ کے مطابق آج صبح بوانا دہلی کا سب سے زیادہ آلودہ مانیٹرنگ اسٹیشن رہا، جہاں اے کیو آئی 302 ریکارڈ کیا گیا۔ یہ سی پی سی بی کے پیمانے پر ’بہت خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بوانا کی اس ریڈنگ کو پی ایم2.5 آلودگی بڑھا رہی ہے۔
سی پی سی بی کے مطابق ’بہت خراب‘ اے کیو آئی کی سطح پر طویل عرصے تک رہنے سے لوگوں کو سانس سے متعلق بیماریوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بوانا کے متعلقہ مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 2.7 لاکھ افراد رہتے ہیں۔
ماکن نے تاہم اس بات کو واضح کیا کہ کسی مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں رہنے والا ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی آلودگی میں سانس لے رہا ہے۔ ان کی رپورٹ میں آبادی کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے اس فرق کو واضح طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔
تازہ رپورٹ کے مطابق پوری دہلی میں 16.8 لاکھ افراد ایسے مانیٹروں کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں رہتے ہیں جہاں آج اے کیو آئی ’خراب‘ یا اس سے بدتر سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح شہر کی ایک بڑی آبادی ایسے علاقوں کے قریب موجود ہے جہاں فضائی آلودگی تشویش ناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔
دہلی کی پی ایم10 آلودگی کے طویل مدتی رجحان کے حوالے سے ماکن نے کہا کہ موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد اب شہر کی پی ایم10 ہوا گزشتہ سال کے اسی دن کے مقابلے میں بدتر نہیں رہی۔ ان کے مطابق مسلسل جاری رہنے والا یہ سلسلہ ٹوٹ گیا ہے۔ تاہم اس سال کے مجموعی ریکارڈ میں صورتحال اب بھی پوری طرح اطمینان بخش نہیں ہے، کیونکہ 253 میں سے 167 دن گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ آلودگی والے رہے۔
’سانس‘ سیریز میں موسم کے اثرات کو الگ کرکے آلودگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس طریقے میں ہوا، بارش اور درجہ حرارت جیسے عوامل کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کیا جاتا ہے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ موسم کے بجائے شہر کی اپنی آلودگی کا رجحان کیا ہے۔
ماکن نے روزانہ کی بنیاد پر فضائی آلودگی کے اعداد و شمار کو ریکارڈ کرنے اور عوام کے سامنے رکھنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو اعداد و شمار روزانہ دیکھے جاتے ہیں، انہیں خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا۔
رپورٹ میں سی پی سی بی کے اعداد و شمار اور ’ہوا کا حساب‘ کے ذریعے استعمال کیے گئے طریقۂ کار کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی کی فضائی آلودگی پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ بوانا میں آج کی ’بہت خراب‘ ہوا اور رواں سال کے 167 خراب دن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مجموعی طور پر دہلی کے فضائی معیار میں بہتری کا دعویٰ محتاط جائزے کا متقاضی ہے۔