ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ایران مخالف قرارداد کی حمایت پر سعودی عرب، اردن اور جاپان کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا،اسماعیل بقائی

ایران کسی ایک فریق کے مؤقف کی حمایت تک محدود نہیں رہ سکتا اور یمن پر طویل عرصے سے جاری محاصرے اور پابندیوں کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں

September 12, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سعودی عرب، اردن اور جاپان کو ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کی حمایت کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان ہونے والے اجلاس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی مداخلت کے بغیر مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق مختلف ممالک کو اس مؤقف پر قائل کرنا کوئی معمولی کامیابی نہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اس وقت نہ جنگ اور نہ ہی امن کی صورتحال میں ہے بلکہ حالت جنگ میں ہے۔ ان کے مطابق سمندری پابندیاں اور ناکہ بندی بھی جنگ کے مترادف ہیں، جبکہ موجودہ حالات میں ایران کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو دفاع کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ایرانی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اب بھی ایران کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے دنیا میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کے اثرات کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔

یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہاں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا ایران سے کوئی براہ راست تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے مذاکرات اور امن کے عمل میں تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم یہ کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ یمن میں موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کئی برس سے جاری حالات پر یمنی عوام کا صبر ختم ہو رہا ہے۔ ایران کسی ایک فریق کے مؤقف کی حمایت تک محدود نہیں رہ سکتا اور یمن پر طویل عرصے سے جاری محاصرے اور پابندیوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا کہ امریکا یمن کی صورتحال کا ذمہ دار ایران کو قرار دے کر حالات کو مزید خراب کرنے اور اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران پر عائد پابندیوں اور معاشی دباؤ کو بھی جنگ کی ایک شکل قرار دیا۔ ان کے مطابق اقتصادی اور بحری محاصرہ جارحیت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

اسماعیل بقائی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو دفاع کے دائرے میں دیکھا جا سکتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں