ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

’گیانیش کمار نے پی ایم مودی کو یومِ پیدائش کا تحفہ پیش کیا‘، ٹی ایم سی کا انتخابی نشان منجمد کیے جانے پر کانگریس کا حملہ

کانگریس نے مغربی بنگال میں ضمنی اسمبلی انتخاب کے دوران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے نام اور ’جوڑا گھاس پھول‘ انتخابی نشان کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ یہ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے۔ کانگریس نے یہ بھی کہا کہ ٹی ایم سی کے نام اور انتخابی نشان کے استعمال پر پابندی عائد کرنا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو دیا گیا ’دیر رات سالگرہ کا تحفہ‘ ہے۔

الیکشن کمیشن نے ٹی ایم سی کے دونوں حریف گروپوں کو ضمنی انتخاب کے دوران پارٹی کے نام اور انتخابی نشان کا استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کمیشن نے دونوں گروپوں سے جمعہ کی صبح تک اپنی پسند کے نام اور انتخابی نشان بتانے کو کہا ہے۔ جمعرات کی رات جاری عبوری حکم میں کمیشن نے ممتا بنرجی اور اروپ رائے کی قیادت والے دونوں گروپوں کے رہنماؤں کی سماعت کے بعد کہا کہ اس معاملے میں انتخابی نشان (ریزرویشن اور الاٹمنٹ) حکم، 1968 کی دفعات کے تحت تفصیلی فیصلہ ضروری ہے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلہ کی جانکاری ملنے کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری اور تنظیم کے انچارج کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ’’بی جے پی کی جانب سے کھلے عام غیر آئینی طریقے سے کیے گئے قبضے کے بعد اے آئی ٹی سی (آل انڈیا ترنمول کانگریس) کے نام اور انتخابی نشان کے استعمال پر پابندی عائد کرنا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے پی ایم مودی کو دیر رات سالگرہ کا تحفہ ہے۔‘‘ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں بی جے پی کے خلاف لڑنے والوں کو اب ان کے خلاف بغاوت کرنے اور الیکشن کمیشن کی مدد سے پارٹی بدلنے کا غیر آئینی گناہ کرنے کے لیے سرخ قالین بچھا کر موقع دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

وینوگوپال نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ’بی جے پی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی‘ اور ’جمہوریت کو آہستہ آہستہ تباہ کرنے کا آلہ‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’انہوں نے (الیکشن کمیشن نے) شیوسینا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور اب اے آئی ٹی سی کے معاملے میں ایسا کیا ہے۔ جو بھی بی جے پی کی مخالفت کرتا ہے، اسے زوردار جھٹکا دیا جاتا ہے اور اس کا پورا انتخابی وجود چھین لیا جاتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہم اس قدم کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر ممتا بنرجی جی کو 2 پتوں والا انتخابی نشان بحال کرے۔‘‘

کانگریس کے میڈیا اور تشہیری شعبہ کے انچارج پون کھیڑا نے بھی اس معاملہ میں اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس کے انتخابی نشان کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ’انصاف‘ نہیں ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’یہ اس کی آئینی ذمہ داری سے پیچھے ہٹنا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’اے آئی ٹی سی سے الگ ہونے والے گروپ کی کوئی آئینی بنیاد نہیں ہے اور اس لیے اے آئی ٹی سی کے انتخابی نشان پر اس کا کوئی جائز دعویٰ نہیں ہے۔ انتخابی نشان اس پارٹی کا ہے جو اس کا نام رکھتی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ عبوری حکم میں الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ’’ریکارڈ پر دستیاب تمام معلومات پر غور کرنے کے بعد کمیشن کی رائے ہے کہ آل انڈیا ترنمول کانگریس میں 2 حریف گروپ ہیں۔ ایک کی قیادت ممتا بنرجی کر رہی ہیں اور دوسرے کی قیادت اروپ رائے کر رہے ہیں۔‘‘ کمیشن نے کہا کہ دونوں گروپ اب خود کو پارٹی قرار دے رہے ہیں۔ اس لیے انتخابی نشان (ریزرویشن اور الاٹمنٹ) حکم، 1968 کے پیرا 15 کے تحت کمیشن کی جانب سے اس تنازعہ پر تفصیلی فیصلہ ضروری ہے۔ کمیشن نے کہا کہ دونوں حریف گروپوں کو یکساں حیثیت میں رکھنے اور ان کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے، گزشتہ معاملات میں اپنائے گئے طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ ضمنی انتخابات کے مقصد سے عبوری حکم جاری کیا گیا ہے۔ یہ حکم تنازعہ پر حتمی فیصلہ ہونے تک نافذ رہے گا۔

کمیشن نے واضح کیا کہ اروپ رائے (درخواست گزار) کی قیادت والے گروپ اور ممتا بنرجی (فریق مخالف) کی قیادت والے گروپ، دونوں میں سے کسی کو بھی ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ پارٹی کا نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ دونوں گروپوں کو ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ کے لیے محفوظ ’پھول اور گھاس‘ انتخابی نشان استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں