ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

فوری طور پرقرار داد سینیٹ میں پیش کی جائے مگر کس سے متعلق ؟ اسحاق ڈار نے اپوزیشن کو نیا راستہ بتادیا

 سوشل میڈیا پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں سابق اسحاق ڈار نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی ایسا جو اس وقت260ارب روپے کا بینیفشری ہے ،یہ ثابت کرسکے کہ اس نے یہ پیسے ریکور نہیں کئے ہوئے ۔ انہوںنے کہا کہ ان سے پیسے وصول کرنا ، قوم ، اپوزیشن، حکومت اور پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے ۔ہمارا آئین کہتاہے کہ اگر کوئی حکومت آرڈیننس جاری کرے اور کوئی ایوان ، قومی اسمبلی یا سینیٹ اکثریت کے ساتھ ایک قرارداد پاس کردے کہ جوقانون یا آرڈیننس حکومت نے جاری کیا ہے ہم اس کومستردکرتے ہیں تو وہ قانون ختم ہوجاتا ہے ۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میں تمام اپوزیشن سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری طور پر اپنی قرارداد تیار کرکے جمع کروائیں کیونکہ سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے اور سینٹ کا اجلاس ہورہا ہے ۔ اس لئے فوری طور پرقرار داد سینیٹ میں پیش کی جائے ، اس کے اوپر ووٹنگ ہوگی ، یہ قرارداد پاس ہوجائیگی کہ ہم اس آرڈیننس جو 27اگست کو جاری ہواہے ، مسترد کرتے ہیں تو وہ فوری طور پر ختم ہوجائیگا اور یہ قانون لاگو نہیں رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں اس حوالے سے فوری میاں شہباز شریف کو بھی یہ اطلاع کررہا ہوں اور اپوزیشن لیڈرز کو بھی یہ پیغام دے رہا ہوں ۔ اپنے میڈیا کے دوستوں کو بھی جو بڑی محنت سے اس کو اجاگر کررہے ہیں میری اس آواز کو اجاگر کریں کہ اپوزیشن جماعتیں فوری پر سینیٹ میں اس قانون کوختم کرنے کی قرارداد پاس کروائیں ، یہ ایک آئینی راستہ ہے ، کسی عدالت میں جانے کی ضرورت نہیں ہے جوکچھ لوگوں نے اختیار کیاہے۔ یہ ہمارا آئینی حق ہے کہ سینیٹ کے ذریعے اس آرڈیننس کو ختم کردیا جائے ۔

install suchtv android app on google app store

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں