ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ترک صدر اردوان کی جانب سے دورہ امریکہ منسوخ کرنے کا امکان

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اشارہ کیا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان میں ترکی کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے حق میں اور آرمینیا میں قتل عام کے حوالے سے قرارداد منظور ہونے کے باعث وہ اپنا دورہ امریکہ منسوخ کر سکتے ہیں۔

ترک صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر 13 نومبر کو واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں۔ تاہم امریکی کانگریس میں ہونے والی ووٹنگ کے باعث اس دورے کے حوالے سے سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

ادھر ترکی کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے نیوز ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ صدر اردوان کے دورہ امریکہ کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ہے۔

امریکہ کا ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ ترکی کی طرف سے روس سے S-400 میزائل دفاعی نظام خریدنے کے فیصلے کے بعد آیا ہے۔ امریکہ پہلے ہی ترکی کے اس فیصلے کے بعد ترکی کیلئے امریکہ کے F-35 لڑاکا جہازوں کا پروگرام منسوخ کر چکا ہے۔ اس پروگرام کے تحت یہ امریکی جنگی جہاز ترکی میں مشترکہ طور پر تیار کیے جانے تھے۔

اس کے علاوہ ترکی کی جانب سے شام میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائیوں سے بھی امریکہ ترکی تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے دو ہفتے بعد امریکی ایوان نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ کے نتیجے میں ترکی کی خفگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ترکی سلطنت عثمانیہ کے دور میں پہلی عالمی جنگ کے دوران سلطنت کی فوجوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران بہت سے آرمینیائی افراد کی ہلاکت سے انکار نہیں کرتا، لیکن ان کی تعداد سے اختلاف کرتا ہے اور اس بات کو رد کرتا ہے کہ یہ ہلاکتیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کئے گئے قتل عام کے نتیجے میں ہوئیں۔

ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کلیم نے کہا ہے کہ ترکی اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ صدر اردوان کے واشنگٹن کے دورے سے بامعنی مقاصد حاصل کیے جا سکیں جن میں شام کا تنازعہ، انسداد دہشت گردی، دفاعی صنعت میں تعاون اور دو طرفہ تجارت کے معاملات شامل ہیں۔

انہوں نے کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر اردوان امریکی دورے کے بارے میں آئندہ چند روز میں حتمی فیصلہ کر لیں گے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں