ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

صنعت کاروں کیلیے جدید مشینری میں سرمایہ کاری ناگزیر ہوگئی

کراچی: دنیابھر میں صنعت کارزیادہ پروڈکشن کیلیے جدید مشینری میں بھاری سرمایہ کاری کرتے ہیں جبکہ پاکستانی صنعت کاروں کی اکثریت ایسا نہیں کرتی۔

پاکستان کی فیکٹریوں میں بہت پرانی جننگ مشین، ٹیکسٹائل پاور لومز، پرنٹنگ پریس، گرین ملنگ یونٹ اور لیدر پروسیسنگ مشین آج بھی زیراستعمال ہیں جس کے نتیجے میںصنعتی شعبے میں بہت زیادہ ویسٹ اور فی یونٹ کم ترین پیداوارحاصل ہورہی ہے۔ پرانی مشینری کو تبدیل کرنے کیلیے بروقت تجزیہ ضروری ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سیٹھ کلچر رائج ہے جس میں تجربے کار انجینئرز اور قابل منیجرز کی گنجائش ہی نہیں بچتی یہاں ایک فرد کا فیصلہ ہوتاہے۔ صنعتی شعبے کی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق جننگ فیکٹریوں کی پیداوار کا تناسب پاکستان میں34فیصد جبکہ بھارت میں42فیصد ہے جبکہ ویسٹ کا تناسب پاکستان میں 8فیصد جبکہ بھارت میں6فیصد ہے۔ دیگر شعبوں کا جائزہ لیاجائے تو وہاں بھی ایسی ہی صورت حال ہے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں